عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَقَطَ عَنْ فَرَسِهِ، فَجُحِشَتْ سَاقُهُ أَوْ كَتِفُهُ، وَآلَى مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا، فَجَلَسَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ، دَرَجَتُهَا مِنْ جُذُوعٍ، فَأَتَاهُ أَصْحَابُهُ يَعُودُونَهُ، فَصَلَّى بِهِمْ جَالِسًا، وَهُمْ قِيَامٌ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا ". وَنَزَلَ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ آلَيْتَ شَهْرًا فَقَالَ " إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ".
انگریزی ترجمہ
It is narrated from Hadrat Anas bin Malik (may Allah be well pleased with him) that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) fell from his horse, and his blessed shin or blessed shoulder was injured. He swore to keep away from his noble wives for one month, and he stayed in an upper room whose staircase was made of date-palm trunks. The Companions (may Allah be well pleased with them all) came to visit him. He led them in prayer while seated, and they were standing. When he concluded with salam, he stated, 'The imam is appointed to be followed. So when he says Allahu Akbar, say Allahu Akbar; when he bows, bow; when he prostrates, prostrate; and if he prays standing, then pray standing.' He came down after twenty-nine days. The people said, 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), you had sworn for one month.' He (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'The month is twenty-nine days.'
اردو ترجمہ
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا ہمیں حمید طویل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھوڑے سے گر گئے جس سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک پنڈلی یا مبارک کندھا زخمی ہو گیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے ایک ماہ تک علیحدگی کی قسم کھائی اور اپنے بالاخانے میں تشریف فرما ہوئے جس کی سیڑھیاں کھجور کے تنوں کی بنی ہوئی تھیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بیٹھ کر نماز پڑھائی جبکہ وہ کھڑے تھے۔ جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو ارشاد فرمایا امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ پس جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، اور اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھائے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم انتیس دن بعد نیچے تشریف لائے۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے تو ایک مہینے کی قسم کھائی تھی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا (یہ) مہینہ انتیس دن کا ہے۔
