It is narrated by Hadrat Abu Huraira (may Allah be well pleased with him) that once the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) ; offered the morning prayer and then faced the people and said, "While a man was driving a cow, he suddenly rode over it and beat it. The cow said, "We have not been created for this, but we have been created for ploughing." On that the people said astonishingly, "Glorified be Allah! A cow speaks!" the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, "I believe this, and Hadrat Abu Bakr al-Siddiq (may Allah be well pleased with him) and `Umar too, believe it, although neither of them was present there. While a person was amongst his sheep, a wolf attacked and took one of the sheep. The man chased the wolf till he saved it from the wolf, where upon the wolf said, 'You have saved it from me; but who will guard it on the day of the wild beasts when there will be no shepherd to guard them except me (because of riots and afflictions)? ' " The people said surprisingly, "Glorified be Allah! A wolf speaks!" the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, "But I believe this, and Hadrat Abu Bakr al-Siddiq (may Allah be well pleased with him) and `Umar too, believe this, although neither of them was present there." (See the Foot-note of page No. 10 Vol)
اردو ترجمہ
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے ان سے حضرت ابوسلمہ نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھی پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ”ایک شخص ( بنی اسرائیل کا ) اپنی گائے ہانکے لیے جا رہا تھا کہ وہ اس پر سوار ہو گیا اور پھر اسے مارا۔ اس گائے نے ( بقدرت الہیٰ ) کہا کہ ہم جانور سواری کے لیے نہیں پیدا کئے گئے۔ ہماری پیدائش تو کھیتی کے لیے ہوئی ہے۔“ لوگوں نے کہا سبحان اللہ! گائے بات کرتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں اس بات پر ایمان لاتا ہوں اور حضرت ابوبکر اور عمر بھی۔ حالانکہ یہ دونوں وہاں موجود بھی نہیں تھے۔ اسی طرح ایک شخص اپنی بکریاں چرا رہا تھا کہ ایک بھیڑیا آیا اور ریوڑ میں سے ایک بکری اٹھا کر لے جانے لگا۔ ریوڑ والا دوڑا اور اس نے بکری کو بھیڑئیے سے چھڑا لیا۔ اس پر بھیڑیا ( بقدرت الہیٰ ) بولا، آج تو تم نے مجھ سے اسے چھڑا لیا لیکن درندوں والے دن میں ( قرب قیامت ) اسے کون بچائے گا جس دن میرے سوا اور کوئی اس کا چرواہا نہ ہو گا؟ لوگوں نے کہا، سبحان اللہ! بھیڑیا باتیں کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں تو اس بات پر ایمان لایا اور حضرت ابوبکر و عمر بھی حالانکہ وہ دونوں اس وقت وہاں موجود نہ تھے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے کہا، ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے مسعر سے، انہوں نے سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے حضرت ابوسلمہ سے روایت کیا اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی۔
It is narrated by Hadrat Abu Huraira (may Allah be well pleased with him) that once the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) ; offered the morning prayer and then faced the people and said, "While a man was driving a cow, he suddenly rode over it and beat it. The cow said, "We have not been created for this, but we have been created for ploughing." On that the people said astonishingly, "Glorified be Allah! A cow speaks!" the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, "I believe this, and Hadrat Abu Bakr al-Siddiq (may Allah be well pleased with him) and `Umar too, believe it, although neither of them was present there. While a person was amongst his sheep, a wolf attacked and took one of the sheep. The man chased the wolf till he saved it from the wolf, where upon the wolf said, 'You have saved it from me; but who will guard it on the day of the wild beasts when there will be no shepherd to guard them except me (because of riots and afflictions)? ' " The people said surprisingly, "Glorified be Allah! A wolf speaks!" the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, "But I believe this, and Hadrat Abu Bakr al-Siddiq (may Allah be well pleased with him) and `Umar too, believe this, although neither of them was present there." (See the Foot-note of page No. 10 Vol)
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے ان سے حضرت ابوسلمہ نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھی پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ”ایک شخص ( بنی اسرائیل کا ) اپنی گائے ہانکے لیے جا رہا تھا کہ وہ اس پر سوار ہو گیا اور پھر اسے مارا۔ اس گائے نے ( بقدرت الہیٰ ) کہا کہ ہم جانور سواری کے لیے نہیں پیدا کئے گئے۔ ہماری پیدائش تو کھیتی کے لیے ہوئی ہے۔“ لوگوں نے کہا سبحان اللہ! گائے بات کرتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں اس بات پر ایمان لاتا ہوں اور حضرت ابوبکر اور عمر بھی۔ حالانکہ یہ دونوں وہاں موجود بھی نہیں تھے۔ اسی طرح ایک شخص اپنی بکریاں چرا رہا تھا کہ ایک بھیڑیا آیا اور ریوڑ میں سے ایک بکری اٹھا کر لے جانے لگا۔ ریوڑ والا دوڑا اور اس نے بکری کو بھیڑئیے سے چھڑا لیا۔ اس پر بھیڑیا ( بقدرت الہیٰ ) بولا، آج تو تم نے مجھ سے اسے چھڑا لیا لیکن درندوں والے دن میں ( قرب قیامت ) اسے کون بچائے گا جس دن میرے سوا اور کوئی اس کا چرواہا نہ ہو گا؟ لوگوں نے کہا، سبحان اللہ! بھیڑیا باتیں کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں تو اس بات پر ایمان لایا اور حضرت ابوبکر و عمر بھی حالانکہ وہ دونوں اس وقت وہاں موجود نہ تھے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے کہا، ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے مسعر سے، انہوں نے سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے حضرت ابوسلمہ سے روایت کیا اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی۔