حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ سُحِرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ اللَّيْثُ كَتَبَ إِلَىَّ هِشَامٌ أَنَّهُ سَمِعَهُ وَوَعَاهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُحِرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى كَانَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّىْءَ وَمَا يَفْعَلُهُ، حَتَّى كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ دَعَا وَدَعَا، ثُمَّ قَالَ " أَشَعَرْتِ أَنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي فِيمَا فِيهِ شِفَائِي أَتَانِي رَجُلاَنِ، فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي وَالآخَرُ عِنْدَ رِجْلَىَّ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلآخَرِ مَا وَجَعُ الرَّجُلِ قَالَ مَطْبُوبٌ. قَالَ وَمَنْ طَبَّهُ قَالَ لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ. قَالَ فِي مَاذَا قَالَ فِي مُشُطٍ وَمُشَاقَةٍ وَجُفِّ طَلْعَةٍ ذَكَرٍ. قَالَ فَأَيْنَ هُوَ قَالَ فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ ". فَخَرَجَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لِعَائِشَةَ حِينَ رَجَعَ " نَخْلُهَا كَأَنَّهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ ". فَقُلْتُ اسْتَخْرَجْتَهُ فَقَالَ " لاَ أَمَّا أَنَا فَقَدْ شَفَانِي اللَّهُ، وَخَشِيتُ أَنْ يُثِيرَ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ شَرًّا، ثُمَّ دُفِنَتِ الْبِئْرُ ".
انگریزی ترجمہ
It is narrated from Umm al-Mu'minin Hadrat ' Aisha al-Siddiqa (may Allah be well pleased with her) that magic was worked upon the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). Laith said: Hisham wrote to me — he had heard it from his father and memorized it — from Hadrat ' Aisha (may Allah be well pleased with her) who said: Magic was worked upon the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) until he would imagine that he had done a thing when he had not done it. One day he supplicated at length, then declared: Do you know? Allah has shown me the means of my cure. Two men came to me — one sat by my head and the other by my feet. One asked the other: What ails this man? He replied: He has been bewitched. He asked: By whom? He replied: By Labid bin al-A'sam. He asked: In what? He replied: In a comb, flax, and the spathe of a male date-palm. He asked: Where is it? He replied: In the well of Dharwan. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) went there, and upon returning, he declared: Its date-palms are like the heads of devils. I submitted: Did you extract it? He declared: No — Allah has cured me, and I feared that extracting it might cause harm among the people. Thereafter, the well was filled in.
اردو ترجمہ
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر جادو کیا گیا تھا۔ لیث نے فرمایا: مجھے ہشام نے لکھا تھا — انہوں نے اپنے والد سے سنا اور یاد رکھا تھا — ان سے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر جادو ہوا تھا، یہاں تک کہ آپ کو یہ گمان ہونے لگتا کہ فلاں کام کر رہے ہیں حالانکہ نہیں کر رہے ہوتے۔ آخر ایک دن آپ نے بہت دعا مانگی، پھر ارشاد فرمایا: تمہیں معلوم ہوا؟ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ تدبیر بتا دی ہے جس میں میری شفا ہے — میرے پاس دو آدمی آئے، ایک میرے سرہانے بیٹھا اور دوسرا پائنتی۔ ایک نے دوسرے سے پوچھا: اس شخص کو کیا بیماری ہے؟ دوسرے نے جواب دیا: جادو ہوا ہے۔ پوچھا: کس نے کیا ہے؟ جواب: لبید بن اعصم نے۔ پوچھا: کس چیز میں رکھا ہے؟ جواب: کنگھے، کتان اور نر کھجور کے خشک خوشے کے غلاف میں۔ پوچھا: کہاں ہے؟ جواب: بئرِ ذروان (کنویں) میں۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم وہاں تشریف لے گئے اور واپس تشریف لا کر فرمایا: وہاں کے کھجور کے درخت ایسے ہیں جیسے شیطانوں کے سر ہوں۔ میں نے عرض کیا: آپ نے وہ (ٹونا) نکلوایا؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں — مجھے تو اللہ تعالیٰ نے خود شفا عطا فرمائی ہے، اور مجھے اندیشہ ہوا کہ (نکلوانے سے) لوگوں میں کوئی فتنہ نہ پھیلے۔ اس کے بعد وہ کنواں بند کر دیا گیا۔
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (14)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحیح بخاری
سُحِرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِنَّهُ لَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّىْءَ وَمَا فَعَلَهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهْوَ عِنْدِي دَعَا اللَّهَ وَدَعَاهُ، ثُمَّ قَالَ " أَشَعَرْتِ يَا ع…
صحیح بخاری
سَحَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ يُقَالُ لَهُ لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ، حَتَّى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّىْءَ وَمَا فَعَلَهُ، حَت…
مَكَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم كَذَا وَكَذَا يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَأْتِي أَهْلَهُ وَلاَ يَأْتِي، قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَالَ لِي ذَاتَ يَوْمٍ " يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي فِي أَمْرٍ اسْتَفْتَيْتُ…
صحیح بخاری
سَمِعْتُ ابْنَ عُيَيْنَةَ، يَقُولُ أَوَّلُ مَنْ حَدَّثَنَا بِهِ ابْنُ جُرَيْجٍ، يَقُولُ حَدَّثَنِي آلُ، عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ، فَسَأَلْتُ هِشَامًا عَنْهُ فَحَدَّثَنَا عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَ…
صحیح مسلم
سَحَرَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَهُودِيٌّ مِنْ يَهُودِ بَنِي زُرَيْقٍ يُقَالُ لَهُ لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ - قَالَتْ - حَتَّى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّى…
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ سُحِرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ اللَّيْثُ كَتَبَ إِلَىَّ هِشَامٌ أَنَّهُ سَمِعَهُ وَوَعَاهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُحِرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى كَانَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّىْءَ وَمَا يَفْعَلُهُ، حَتَّى كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ دَعَا وَدَعَا، ثُمَّ قَالَ " أَشَعَرْتِ أَنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي فِيمَا فِيهِ شِفَائِي أَتَانِي رَجُلاَنِ، فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي وَالآخَرُ عِنْدَ رِجْلَىَّ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلآخَرِ مَا وَجَعُ الرَّجُلِ قَالَ مَطْبُوبٌ. قَالَ وَمَنْ طَبَّهُ قَالَ لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ. قَالَ فِي مَاذَا قَالَ فِي مُشُطٍ وَمُشَاقَةٍ وَجُفِّ طَلْعَةٍ ذَكَرٍ. قَالَ فَأَيْنَ هُوَ قَالَ فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ ". فَخَرَجَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لِعَائِشَةَ حِينَ رَجَعَ " نَخْلُهَا كَأَنَّهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ ". فَقُلْتُ اسْتَخْرَجْتَهُ فَقَالَ " لاَ أَمَّا أَنَا فَقَدْ شَفَانِي اللَّهُ، وَخَشِيتُ أَنْ يُثِيرَ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ شَرًّا، ثُمَّ دُفِنَتِ الْبِئْرُ ".
It is narrated from Umm al-Mu'minin Hadrat ' Aisha al-Siddiqa (may Allah be well pleased with her) that magic was worked upon the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). Laith said: Hisham wrote to me — he had heard it from his father and memorized it — from Hadrat ' Aisha (may Allah be well pleased with her) who said: Magic was worked upon the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) until he would imagine that he had done a thing when he had not done it. One day he supplicated at length, then declared: Do you know? Allah has shown me the means of my cure. Two men came to me — one sat by my head and the other by my feet. One asked the other: What ails this man? He replied: He has been bewitched. He asked: By whom? He replied: By Labid bin al-A'sam. He asked: In what? He replied: In a comb, flax, and the spathe of a male date-palm. He asked: Where is it? He replied: In the well of Dharwan. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) went there, and upon returning, he declared: Its date-palms are like the heads of devils. I submitted: Did you extract it? He declared: No — Allah has cured me, and I feared that extracting it might cause harm among the people. Thereafter, the well was filled in.
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر جادو کیا گیا تھا۔ لیث نے فرمایا: مجھے ہشام نے لکھا تھا — انہوں نے اپنے والد سے سنا اور یاد رکھا تھا — ان سے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر جادو ہوا تھا، یہاں تک کہ آپ کو یہ گمان ہونے لگتا کہ فلاں کام کر رہے ہیں حالانکہ نہیں کر رہے ہوتے۔ آخر ایک دن آپ نے بہت دعا مانگی، پھر ارشاد فرمایا: تمہیں معلوم ہوا؟ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ تدبیر بتا دی ہے جس میں میری شفا ہے — میرے پاس دو آدمی آئے، ایک میرے سرہانے بیٹھا اور دوسرا پائنتی۔ ایک نے دوسرے سے پوچھا: اس شخص کو کیا بیماری ہے؟ دوسرے نے جواب دیا: جادو ہوا ہے۔ پوچھا: کس نے کیا ہے؟ جواب: لبید بن اعصم نے۔ پوچھا: کس چیز میں رکھا ہے؟ جواب: کنگھے، کتان اور نر کھجور کے خشک خوشے کے غلاف میں۔ پوچھا: کہاں ہے؟ جواب: بئرِ ذروان (کنویں) میں۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم وہاں تشریف لے گئے اور واپس تشریف لا کر فرمایا: وہاں کے کھجور کے درخت ایسے ہیں جیسے شیطانوں کے سر ہوں۔ میں نے عرض کیا: آپ نے وہ (ٹونا) نکلوایا؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں — مجھے تو اللہ تعالیٰ نے خود شفا عطا فرمائی ہے، اور مجھے اندیشہ ہوا کہ (نکلوانے سے) لوگوں میں کوئی فتنہ نہ پھیلے۔ اس کے بعد وہ کنواں بند کر دیا گیا۔
سَحَرَ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَهُودِيٌّ مِنْ يَهُودِ بَنِي زُرَيْقٍ يُقَالُ لَهُ لَبِيدُ بْنُ الأَعْصَمِ حَتَّى كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّىْءَ وَلاَ يَفْ…