عربی (اصل)
وَقَالَ مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ صَالَحَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَلاَثَةِ أَشْيَاءَ عَلَى أَنَّ مَنْ أَتَاهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ رَدَّهُ إِلَيْهِمْ، وَمَنْ أَتَاهُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَمْ يَرُدُّوهُ، وَعَلَى أَنْ يَدْخُلَهَا مِنْ قَابِلٍ وَيُقِيمَ بِهَا ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ، وَلاَ يَدْخُلَهَا إِلاَّ بِجُلُبَّانِ السِّلاَحِ السَّيْفِ وَالْقَوْسِ وَنَحْوِهِ. فَجَاءَ أَبُو جَنْدَلٍ يَحْجُلُ فِي قُيُودِهِ فَرَدَّهُ إِلَيْهِمْ. قَالَ لَمْ يَذْكُرْ مُؤَمَّلٌ عَنْ سُفْيَانَ أَبَا جَنْدَلٍ وَقَالَ إِلاَّ بِجُلُبِّ السِّلاَحِ.
انگریزی ترجمہ
Narrated by Hadrat al-Bara' bin 'Azib (may Allah be well pleased with them both): The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) made peace with the polytheists on the day of Hudaybiyya on three conditions: that whoever came to him from the polytheists, he would return them to them; whoever went to them from the Muslims, they would not return them; and he would enter Makkah the following year and stay for three days, and would not enter it except with weapons in their sheaths -- swords, bows, and the like. Then Hadrat Abu Jandal (may Allah be well pleased with him) came, hobbling in his chains, and he (blessings and peace of Allah be upon him) returned him to them. The narrator said: Mu'ammal did not mention Abu Jandal in his narration from Sufyan, and he said 'julab al-silah' (instead of julubban).
اردو ترجمہ
اور موسیٰ بن مسعود نے کہا ہم سے سفیان بن سعید نے بیان کیا، ابو اسحاق سے، حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہ انہوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے دن مشرکوں سے تین باتوں پر صلح فرمائی: جو شخص مشرکوں میں سے آپ کے پاس آئے، آپ اسے واپس بھیج دیں گے، اور جو شخص مسلمانوں میں سے ان کے پاس جائے تو وہ اسے واپس نہیں کریں گے، اور آپ اگلے سال مکہ میں داخل ہوں گے اور تین دن ٹھہریں گے اور جلبّان السلاح یعنی تلوار، کمان اور اس جیسے ہتھیاروں کے غلاف کے سوا داخل نہیں ہوں گے۔ پھر ابو جندل رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی بیڑیوں میں لنگڑاتے ہوئے آئے تو آپ نے انہیں واپس کر دیا۔ راوی نے کہا: مؤمل نے سفیان سے ابو جندل کا ذکر نہیں کیا اور "جلب السلاح" کہا ہے۔
