عربی (اصل)
حَدَّثَنَا حِبَّانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ ابْنَةً لأَبِي إِهَابِ بْنِ عَزِيزٍ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ قَدْ أَرْضَعْتُ عُقْبَةَ وَالَّتِي تَزَوَّجَ. فَقَالَ لَهَا عُقْبَةُ مَا أَعْلَمُ أَنَّكِ أَرْضَعْتِنِي وَلاَ أَخْبَرْتِنِي. فَأَرْسَلَ إِلَى آلِ أَبِي إِهَابٍ يَسْأَلُهُمْ فَقَالُوا مَا عَلِمْنَا أَرْضَعَتْ صَاحِبَتَنَا. فَرَكِبَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالْمَدِينَةِ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ ". فَفَارَقَهَا، وَنَكَحَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ.
انگریزی ترجمہ
Narrated to us by Hibban, Hadrat Abdullah informed us, Umar bin Sa'id bin Abi Husain informed us, he said Abdullah bin Abi Mulaikah informed me, from Hadrat Uqbah bin al-Harith (may Allah be well pleased with him), that he married a daughter of Abu Ihab bin Aziz. A woman came and said, 'I have suckled both Uqbah and the one he has married.' Hadrat Uqbah (may Allah be well pleased with him) said to her, 'I did not know that you suckled me, nor did you inform me before.' He then sent word to the family of Abu Ihab and asked them. They said, 'We do not know that she suckled our girl.' He then rode to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) in Madinah al-Munawwarah and asked him. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) declared, 'How can (the marriage continue) when it has been said (that there is a milk-relationship)!' So he separated from her, and she married another husband.
اردو ترجمہ
ہم سے حبان نے بیان کیا، ہم کو عبداللہ نے خبر دی، ہم کو عمر بن سعید بن ابی حسین نے خبر دی، فرمایا مجھے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے خبر دی، حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ انہوں نے ابو اہاب بن عزیز کی بیٹی سے نکاح کیا۔ ایک عورت آئی اور کہا کہ میں نے عقبہ کو اور جس عورت سے انہوں نے نکاح کیا ہے دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ حضرت عقبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے فرمایا: مجھے معلوم نہیں کہ تم نے مجھے دودھ پلایا ہے اور تم نے مجھے پہلے خبر بھی نہیں دی۔ پھر انہوں نے آل ابو اہاب کو پیغام بھیج کر پوچھا تو انہوں نے کہا: ہمیں معلوم نہیں کہ اس عورت نے ہماری لڑکی کو دودھ پلایا ہے۔ پھر وہ سوار ہو کر مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور دریافت کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (اب نکاح میں رہنا) کیسے ہو سکتا ہے جبکہ (رضاعت کی) بات کہہ دی گئی ہے! چنانچہ انہوں نے ان سے جدائی اختیار کی اور اس عورت نے کسی اور سے نکاح کر لیا۔
