عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَبُو جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَتَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْتَ فَاطِمَةَ فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهَا، وَجَاءَ عَلِيٌّ فَذَكَرَتْ لَهُ ذَلِكَ فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنِّي رَأَيْتُ عَلَى بَابِهَا سِتْرًا مَوْشِيًّا ". فَقَالَ " مَا لِي وَلِلدُّنْيَا ". فَأَتَاهَا عَلِيٌّ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهَا فَقَالَتْ لِيَأْمُرْنِي فِيهِ بِمَا شَاءَ. قَالَ تُرْسِلُ بِهِ إِلَى فُلاَنٍ. أَهْلِ بَيْتٍ بِهِمْ حَاجَةٌ.
انگریزی ترجمہ
Narrated to us by Muhammad bin Ja'far Abu Ja'far, narrated to us by Ibn Fudail, from his father, from Nafi, that Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) stated, 'The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) came to the house of Hadrat Fatimah (may Allah be well pleased with her) but did not enter. When Hadrat Ali al-Murtada (may Allah ennoble his countenance) came, she mentioned this to him. He mentioned it to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). He (blessings and peace of Allah be upon him) declared, "I saw an embroidered curtain at her door." And he declared, "What have I to do with the worldly life!" Hadrat Ali (may Allah ennoble his countenance) went and informed Hadrat Fatimah (may Allah be well pleased with her), and she said, "Let him (blessings and peace of Allah be upon him) command me regarding it as he wishes; I am ready." He (blessings and peace of Allah be upon him) declared, "Send it to such-and-such household who are in need."'
اردو ترجمہ
ہم سے محمد بن جعفر ابو جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن فضیل نے بیان کیا، اپنے والد سے، نافع سے، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر تشریف لائے لیکن اندر تشریف نہ لے گئے۔ حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم تشریف لائے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان سے یہ بات ذکر فرمائی۔ انہوں نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے ان کے دروازے پر ایک نقش و نگار والا پردہ دیکھا۔ اور فرمایا: مجھے دنیا سے کیا کام! حضرت علی کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے جا کر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو یہ بتایا تو انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس کے بارے میں جو بھی حکم فرمائیں، میں حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے فلاں محتاج گھرانے کو بھیج دو۔
