عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ جَاءَ يَهُودِيٌّ، فَقَالَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ضَرَبَ وَجْهِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِكَ. فَقَالَ " مَنْ ". قَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ. قَالَ " ادْعُوهُ ". فَقَالَ " أَضَرَبْتَهُ ". قَالَ سَمِعْتُهُ بِالسُّوقِ يَحْلِفُ وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ. قُلْتُ أَىْ خَبِيثُ، عَلَى مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم فَأَخَذَتْنِي غَضْبَةٌ ضَرَبْتُ وَجْهَهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُخَيِّرُوا بَيْنَ الأَنْبِيَاءِ، فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الأَرْضُ، فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ، فَلاَ أَدْرِي أَكَانَ فِيمَنْ صَعِقَ، أَمْ حُوسِبَ بِصَعْقَةِ الأُولَى ".
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be well pleased with him) that while the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was seated, a Jew came and said: 'O Abul-Qasim! One of your Companions has slapped me on the face.' He (blessings and peace of Allah be upon him) inquired: 'Who?' He said: 'One of the Ansar.' He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Call him.' Then he asked him: 'Did you strike him?' He said: 'I heard him taking an oath in the market, saying: By Him Who gave Musa (upon him be peace) superiority over all mankind! I said: O wretched one! Even over Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him)! I was overcome with anger and slapped his face.' The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Do not give one the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) superiority over another. On the Day of Resurrection, people will fall unconscious. I will be the first to emerge from the earth, and I will see Musa (upon him be peace) holding one of the legs of the Divine Throne. I do not know whether he was among those who fell unconscious (and recovered before me) or whether the first swoon at Tur was sufficient for him.'
اردو ترجمہ
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے کہ ایک یہودی آیا اور عرض کیا: اے ابوالقاسم! آپ کے ایک صحابی نے میرے منہ پر تھپڑ مارا ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: کس نے؟ اس نے کہا: ایک انصاری نے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انہیں بلاؤ۔ پھر ان سے پوچھا: کیا تم نے اسے مارا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے اسے بازار میں قسم کھاتے سنا: اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تمام انسانوں پر فضیلت عطا فرمائی! میں نے کہا: اے خبیث! محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر بھی (فضیلت)! مجھے غصہ آ گیا اور میں نے اس کے منہ پر تھپڑ مار دیا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انبیاء کرام (علیہم السلام) میں سے ایک کو دوسرے پر اس طرح فضیلت نہ دیا کرو۔ قیامت کے دن لوگ بے ہوش ہو جائیں گے۔ زمین سے سب سے پہلے نکلنے والا میں ہوں گا، تو دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرشِ الہٰی کا ایک پایہ تھامے ہوئے ہیں۔ مجھے معلوم نہیں کہ وہ بھی بے ہوش ہوئے تھے (اور مجھ سے پہلے ہوش آ گیا) یا پہلی بے ہوشی جو طور پر ہوئی تھی وہی ان کے لیے کافی تھی۔
