حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَاجِدٌ ح قَالَ وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي عِنْدَ الْبَيْتِ، وَأَبُو جَهْلٍ وَأَصْحَابٌ لَهُ جُلُوسٌ، إِذْ قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَيُّكُمْ يَجِيءُ بِسَلَى جَزُورِ بَنِي فُلاَنٍ فَيَضَعُهُ عَلَى ظَهْرِ مُحَمَّدٍ إِذَا سَجَدَ فَانْبَعَثَ أَشْقَى الْقَوْمِ فَجَاءَ بِهِ، فَنَظَرَ حَتَّى إِذَا سَجَدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَضَعَهُ عَلَى ظَهْرِهِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ وَأَنَا أَنْظُرُ، لاَ أُغَيِّرُ شَيْئًا، لَوْ كَانَ لِي مَنْعَةٌ. قَالَ فَجَعَلُوا يَضْحَكُونَ وَيُحِيلُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَاجِدٌ لاَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، حَتَّى جَاءَتْهُ فَاطِمَةُ، فَطَرَحَتْ عَنْ ظَهْرِهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ " اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ ". ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، فَشَقَّ عَلَيْهِمْ إِذْ دَعَا عَلَيْهِمْ ـ قَالَ وَكَانُوا يُرَوْنَ أَنَّ الدَّعْوَةَ فِي ذَلِكَ الْبَلَدِ مُسْتَجَابَةٌ ـ ثُمَّ سَمَّى " اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلٍ، وَعَلَيْكَ بِعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ ". وَعَدَّ السَّابِعَ فَلَمْ يَحْفَظْهُ قَالَ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ الَّذِينَ عَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَرْعَى فِي الْقَلِيبِ قَلِيبِ بَدْرٍ.
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abdullah bin Mas'ud (may Allah be well pleased with him) narrates: The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) was praying near the Ka'bah while Abu Jahl and his companions were sitting nearby. One of them said to the others: Who among you will bring the intestines of a camel slaughtered by such and such family and place it on Muhammad's back when he prostrates? The most wretched among them got up and brought it. He waited until the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) prostrated, then placed it on his blessed back between his shoulders. I (Hadrat Abdullah bin Mas'ud, may Allah be well pleased with him) was watching but could do nothing — if only I had the strength to stop them! They began laughing and falling over one another. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) remained in prostration and did not raise his head until Hadrat Fatima (al-Zahra, may Allah be well pleased with her) came and removed it from his back. He raised his head and said three times: O Allah! Seize the Quraysh! This was very hard on those disbelievers, for they believed that prayers in this city (Makkah) were surely answered. Then he named them: O Allah! Seize Abu Jahl, Utba bin Rabi'a, Shayba bin Rabi'a, al-Walid bin Utba, Umayya bin Khalaf, and Uqba bin Abi Mu'ayt. He also named a seventh but I cannot recall him. Hadrat Abdullah bin Mas'ud (may Allah be well pleased with him) says: By the One in Whose Hand is my soul! I saw those whom the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) had named, lying dead in the well of Badr.
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے اور ابو جہل اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: تم میں سے کون فلاں خاندان کی اونٹنی کی اوجھڑی لا کر محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) کی پشت پر رکھ دے جب وہ سجدے میں جائیں؟ ان میں سے سب سے زیادہ بدبخت اٹھا اور اسے لے آیا۔ پھر انتظار کیا، جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا تو اس نے وہ (اوجھڑی) آپ کی پشت مبارک پر دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دی۔ میں (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ) دیکھ رہا تھا مگر کچھ نہ کر سکتا تھا — کاش مجھے روکنے کی طاقت ہوتی! وہ لوگ ہنسنے اور ایک دوسرے پر لوٹ پوٹ ہونے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سجدے میں تھے اور سر نہیں اٹھا رہے تھے، یہاں تک کہ حضرت فاطمہ (الزہراء) رضی اللہ تعالیٰ عنہا آئیں اور آپ کی پشت سے اسے اتار کر پھینکا۔ آپ نے سر اٹھایا اور تین بار فرمایا: اے اللہ! قریش کو پکڑ لے! یہ بات ان کافروں پر بہت بھاری گزری کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اس شہر (مکّہ) میں دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔ پھر آپ نے نام لے کر فرمایا: اے اللہ! ابو جہل کو پکڑ، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط کو (پکڑ)۔ اور ساتویں کا نام بھی لیا مگر مجھے یاد نہیں رہا۔ (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:) اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! جن لوگوں کا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے نام لیا تھا، میں نے ان (سب) کو بدر کے کنویں میں مُردہ پڑے دیکھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَاجِدٌ ح قَالَ وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي عِنْدَ الْبَيْتِ، وَأَبُو جَهْلٍ وَأَصْحَابٌ لَهُ جُلُوسٌ، إِذْ قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَيُّكُمْ يَجِيءُ بِسَلَى جَزُورِ بَنِي فُلاَنٍ فَيَضَعُهُ عَلَى ظَهْرِ مُحَمَّدٍ إِذَا سَجَدَ فَانْبَعَثَ أَشْقَى الْقَوْمِ فَجَاءَ بِهِ، فَنَظَرَ حَتَّى إِذَا سَجَدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَضَعَهُ عَلَى ظَهْرِهِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ وَأَنَا أَنْظُرُ، لاَ أُغَيِّرُ شَيْئًا، لَوْ كَانَ لِي مَنْعَةٌ. قَالَ فَجَعَلُوا يَضْحَكُونَ وَيُحِيلُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَاجِدٌ لاَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، حَتَّى جَاءَتْهُ فَاطِمَةُ، فَطَرَحَتْ عَنْ ظَهْرِهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ " اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ ". ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، فَشَقَّ عَلَيْهِمْ إِذْ دَعَا عَلَيْهِمْ ـ قَالَ وَكَانُوا يُرَوْنَ أَنَّ الدَّعْوَةَ فِي ذَلِكَ الْبَلَدِ مُسْتَجَابَةٌ ـ ثُمَّ سَمَّى " اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلٍ، وَعَلَيْكَ بِعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ ". وَعَدَّ السَّابِعَ فَلَمْ يَحْفَظْهُ قَالَ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ الَّذِينَ عَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَرْعَى فِي الْقَلِيبِ قَلِيبِ بَدْرٍ.
Hadrat Abdullah bin Mas'ud (may Allah be well pleased with him) narrates: The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) was praying near the Ka'bah while Abu Jahl and his companions were sitting nearby. One of them said to the others: Who among you will bring the intestines of a camel slaughtered by such and such family and place it on Muhammad's back when he prostrates? The most wretched among them got up and brought it. He waited until the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) prostrated, then placed it on his blessed back between his shoulders. I (Hadrat Abdullah bin Mas'ud, may Allah be well pleased with him) was watching but could do nothing — if only I had the strength to stop them! They began laughing and falling over one another. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) remained in prostration and did not raise his head until Hadrat Fatima (al-Zahra, may Allah be well pleased with her) came and removed it from his back. He raised his head and said three times: O Allah! Seize the Quraysh! This was very hard on those disbelievers, for they believed that prayers in this city (Makkah) were surely answered. Then he named them: O Allah! Seize Abu Jahl, Utba bin Rabi'a, Shayba bin Rabi'a, al-Walid bin Utba, Umayya bin Khalaf, and Uqba bin Abi Mu'ayt. He also named a seventh but I cannot recall him. Hadrat Abdullah bin Mas'ud (may Allah be well pleased with him) says: By the One in Whose Hand is my soul! I saw those whom the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) had named, lying dead in the well of Badr.
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے اور ابو جہل اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: تم میں سے کون فلاں خاندان کی اونٹنی کی اوجھڑی لا کر محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) کی پشت پر رکھ دے جب وہ سجدے میں جائیں؟ ان میں سے سب سے زیادہ بدبخت اٹھا اور اسے لے آیا۔ پھر انتظار کیا، جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا تو اس نے وہ (اوجھڑی) آپ کی پشت مبارک پر دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دی۔ میں (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ) دیکھ رہا تھا مگر کچھ نہ کر سکتا تھا — کاش مجھے روکنے کی طاقت ہوتی! وہ لوگ ہنسنے اور ایک دوسرے پر لوٹ پوٹ ہونے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سجدے میں تھے اور سر نہیں اٹھا رہے تھے، یہاں تک کہ حضرت فاطمہ (الزہراء) رضی اللہ تعالیٰ عنہا آئیں اور آپ کی پشت سے اسے اتار کر پھینکا۔ آپ نے سر اٹھایا اور تین بار فرمایا: اے اللہ! قریش کو پکڑ لے! یہ بات ان کافروں پر بہت بھاری گزری کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اس شہر (مکّہ) میں دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔ پھر آپ نے نام لے کر فرمایا: اے اللہ! ابو جہل کو پکڑ، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط کو (پکڑ)۔ اور ساتویں کا نام بھی لیا مگر مجھے یاد نہیں رہا۔ (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:) اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! جن لوگوں کا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے نام لیا تھا، میں نے ان (سب) کو بدر کے کنویں میں مُردہ پڑے دیکھا۔