عربی (اصل)
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ كَانَ يُكْرِي مَزَارِعَهُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَصَدْرًا مِنْ إِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ. ثُمَّ حُدِّثَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ، فَذَهَبَ ابْنُ عُمَرَ إِلَى رَافِعٍ فَذَهَبْتُ مَعَهُ، فَسَأَلَهُ فَقَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ. فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّا كُنَّا نُكْرِي مَزَارِعَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَا عَلَى الأَرْبِعَاءِ وَبِشَىْءٍ مِنَ التِّبْنِ.
انگریزی ترجمہ
It is narrated from Nafi' (upon him be mercy) that Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) used to rent out his farms during the time of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), Hadrat Abu Bakr, Hadrat Umar, Hadrat Uthman (may Allah be well pleased with them), and the early period of Hadrat Mu'awiya's (may Allah be well pleased with him) rule. He was then told that Hadrat Rafi' bin Khadij (may Allah be well pleased with him) related that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) had forbidden renting out farms. Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) went to Hadrat Rafi' (may Allah be well pleased with him) and I accompanied him. He asked, and Hadrat Rafi' (may Allah be well pleased with him) confirmed: The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) forbade renting out farms. Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) said: 'You know that we used to rent our farms during the time of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) for the yield of the plots near the water channels and some straw.'
اردو ترجمہ
نافع رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم، حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے زمانے میں اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حکومت کے ابتدائی دور میں اپنے کھیت ٹھیکے پر دیا کرتے تھے۔ پھر انہیں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بتایا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کھیتوں کو ٹھیکے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما حضرت رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گئے اور میں بھی ان کے ساتھ گیا۔ انہوں نے پوچھا تو حضرت رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ہاں، نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کھیتوں کو ٹھیکے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: تم جانتے ہو کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اپنے کھیت نالوں پر اگنے والی فصل اور کچھ بھوسے کے عوض ٹھیکے پر دیا کرتے تھے۔
