صحیح بخاریRepresentation, Authorization, Business by Proxy#2311صحیح
عربی (اصل)
وَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ أَبُو عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ وَكَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِحِفْظِ زَكَاةِ رَمَضَانَ، فَأَتَانِي آتٍ فَجَعَلَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ، فَأَخَذْتُهُ، وَقُلْتُ وَاللَّهِ لأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. قَالَ إِنِّي مُحْتَاجٌ، وَعَلَىَّ عِيَالٌ، وَلِي حَاجَةٌ شَدِيدَةٌ. قَالَ فَخَلَّيْتُ عَنْهُ فَأَصْبَحْتُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ الْبَارِحَةَ ". قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَكَا حَاجَةً شَدِيدَةً وَعِيَالاً فَرَحِمْتُهُ، فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ. قَالَ " أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَذَبَكَ وَسَيَعُودُ ". فَعَرَفْتُ أَنَّهُ سَيَعُودُ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّهُ سَيَعُودُ. فَرَصَدْتُهُ فَجَاءَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ فَأَخَذْتُهُ فَقُلْتُ لأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. قَالَ دَعْنِي فَإِنِّي مُحْتَاجٌ، وَعَلَىَّ عِيَالٌ لاَ أَعُودُ، فَرَحِمْتُهُ، فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ فَأَصْبَحْتُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ ". قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَكَا حَاجَةً شَدِيدَةً وَعِيَالاً، فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ. قَالَ " أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَذَبَكَ وَسَيَعُودُ ". فَرَصَدْتُهُ الثَّالِثَةَ فَجَاءَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ، فَأَخَذْتُهُ فَقُلْتُ لأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، وَهَذَا آخِرُ ثَلاَثِ مَرَّاتٍ أَنَّكَ تَزْعُمُ لاَ تَعُودُ ثُمَّ تَعُودُ. قَالَ دَعْنِي أُعَلِّمْكَ كَلِمَاتٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهَا. قُلْتُ مَا هُوَ قَالَ إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَاقْرَأْ آيَةَ الْكُرْسِيِّ {اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَىُّ الْقَيُّومُ} حَتَّى تَخْتِمَ الآيَةَ، فَإِنَّكَ لَنْ يَزَالَ عَلَيْكَ مِنَ اللَّهِ حَافِظٌ وَلاَ يَقْرَبَنَّكَ شَيْطَانٌ حَتَّى تُصْبِحَ. فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ فَأَصْبَحْتُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ الْبَارِحَةَ ". قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَعَمَ أَنَّهُ يُعَلِّمُنِي كَلِمَاتٍ، يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهَا، فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ. قَالَ " مَا هِيَ ". قُلْتُ قَالَ لِي إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَاقْرَأْ آيَةَ الْكُرْسِيِّ مِنْ أَوَّلِهَا حَتَّى تَخْتِمَ {اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَىُّ الْقَيُّومُ} وَقَالَ لِي لَنْ يَزَالَ عَلَيْكَ مِنَ اللَّهِ حَافِظٌ وَلاَ يَقْرَبَكَ شَيْطَانٌ حَتَّى تُصْبِحَ، وَكَانُوا أَحْرَصَ شَىْءٍ عَلَى الْخَيْرِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَمَا إِنَّهُ قَدْ صَدَقَكَ وَهُوَ كَذُوبٌ، تَعْلَمُ مَنْ تُخَاطِبُ مُنْذُ ثَلاَثِ لَيَالٍ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ". قَالَ لاَ. قَالَ " ذَاكَ شَيْطَانٌ ".
انگریزی ترجمہ
It is narrated from Hadrat Abu Huraira (may Allah be well pleased with him) who stated: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) deputed me to guard the charity (Zakat al-Fitr) of Ramadan. Someone came at night and began taking handfuls of foodstuff. I seized him and said: 'By Allah, I shall take you to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)!' He said: 'I am needy with dependents and in dire need.' So I let him go. In the morning, the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) asked: 'O Hadrat Abu Huraira, what did your captive do last night?' I submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), he complained of dire need and dependents, so I took pity and released him.' He stated: 'Indeed, he lied to you and he will return.' I was certain he would return because the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) had said so. I lay in wait. He came again, taking handfuls of food. I caught him and said: 'I shall certainly take you to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)!' He pleaded: 'Let me go, I am needy with dependents; I will not come again.' I took pity and released him. In the morning, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) asked: 'O Hadrat Abu Huraira, what did your captive do?' I submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), he again complained of dire need and dependents, so I took pity and released him.' He stated: 'He lied to you and he will return.' I lay in wait the third time. When he came taking handfuls of food, I caught him and said: 'I shall certainly take you to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! This is the third time you promise not to return, yet you come back.' He said: 'Let me go and I will teach you words by which Allah will benefit you.' I asked: 'What are they?' He said: 'When you go to bed, recite Ayat al-Kursi: Allah, there is no god but He, the Ever-Living, the Self-Subsisting, to the end. A guardian from Allah will remain with you, and no devil will come near you until morning.' I let him go. In the morning, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) asked: 'What did your captive do last night?' I submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), he claimed he would teach me words by which Allah would benefit me, so I let him go.' He asked: 'What are they?' I submitted: 'He told me to recite Ayat al-Kursi from its beginning to its end when going to bed, and that a guardian from Allah would remain upon me and no devil would come near me until morning.' The Companions were most eager for good deeds. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'He told you the truth, though he is a consummate liar. Do you know whom you have been speaking with these three nights, O Hadrat Abu Huraira?' I submitted: 'No.' He stated: 'That was a devil.'
اردو ترجمہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے رمضان کی زکوٰۃ (فطر) کی حفاظت پر مقرر فرمایا۔ ایک رات ایک آنے والا آیا اور غلہ میں سے لپ بھر بھر کر لینے لگا۔ میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا: بخدا! میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لے جاؤں گا۔ اس نے کہا: میں محتاج ہوں، بال بچے ہیں اور سخت ضرورت ہے۔ تو میں نے اسے چھوڑ دیا۔ صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے حضرت ابو ہریرہ! گزشتہ رات تمہارے قیدی نے کیا کیا؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے سخت ضرورت اور بال بچوں کا رونا رویا تو مجھے رحم آ گیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا۔ ارشاد فرمایا: سنو! اس نے تم سے جھوٹ بولا ہے اور وہ پھر آئے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سے مجھے یقین تھا کہ وہ پھر آئے گا۔ میں اس کی تاک میں رہا۔ وہ آیا اور غلہ اٹھانے لگا تو میں نے پکڑا اور کہا: تجھے ضرور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لے جاؤں گا۔ اس نے کہا: مجھے چھوڑ دو، میں محتاج ہوں، بال بچے ہیں، اب نہیں آؤں گا۔ مجھے رحم آیا اور چھوڑ دیا۔ صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے حضرت ابو ہریرہ! تمہارے قیدی نے کیا کیا؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے پھر سخت ضرورت اور بال بچوں کا رونا رویا تو رحم آ گیا اور چھوڑ دیا۔ ارشاد فرمایا: اس نے تم سے جھوٹ بولا ہے اور وہ پھر آئے گا۔ تیسری رات میں پھر اس کے انتظار میں رہا۔ جب وہ آ کر غلہ اٹھانے لگا تو میں نے پکڑا اور کہا: اب تو ضرور تجھے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لے جاؤں گا۔ یہ تیسری بار ہے کہ تم کہتے ہو واپس نہیں آؤں گا مگر پھر آ جاتے ہو۔ اس نے کہا: مجھے چھوڑ دو، میں تمہیں ایسے کلمات سکھاتا ہوں جن سے اللہ تعالیٰ تمہیں نفع پہنچائے۔ میں نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟ اس نے کہا: جب تم بستر پر جاؤ تو آیت الکرسی ﴿اللّٰہ لا الٰہ الّا ھو الحیّ القیّوم﴾ آخر تک پڑھ لو، تم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک محافظ مقرر رہے گا اور صبح تک شیطان تمہارے قریب نہیں آ سکے گا۔ میں نے اسے چھوڑ دیا۔ صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: گزشتہ رات تمہارے قیدی نے کیا کیا؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے کہا کہ مجھے ایسے کلمات سکھائے گا جن سے اللہ تعالیٰ مجھے نفع پہنچائے، تو میں نے اسے چھوڑ دیا۔ ارشاد فرمایا: وہ کیا ہیں؟ میں نے عرض کیا: اس نے مجھ سے کہا: جب بستر پر جاؤ تو آیت الکرسی شروع سے آخر تک پڑھو ﴿اللّٰہ لا الٰہ الّا ھو الحیّ القیّوم﴾ اور کہا: اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر ایک محافظ رہے گا اور صبح تک شیطان تمہارے قریب نہیں آ سکے گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم خیر حاصل کرنے کے سب سے زیادہ حریص تھے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس نے تمہیں سچ بتایا ہے حالانکہ وہ بڑا جھوٹا ہے۔ اے حضرت ابو ہریرہ! کیا تم جانتے ہو کہ تین راتوں سے تم کس سے بات کر رہے تھے؟ میں نے عرض کیا: نہیں۔ ارشاد فرمایا: وہ شیطان تھا۔
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (2)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
ریاض الصالحین
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: وكلني رسول الله صلى الله عليه وسلم بحفظ زكاة رمضان، فأتاني آتٍ، فجعل يحثو من الطعام، فأخذته فقلت: لأرفعنك إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:…
وَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ أَبُو عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ وَكَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِحِفْظِ زَكَاةِ رَمَضَانَ، فَأَتَانِي آتٍ فَجَعَلَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ، فَأَخَذْتُهُ، وَقُلْتُ وَاللَّهِ لأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. قَالَ إِنِّي مُحْتَاجٌ، وَعَلَىَّ عِيَالٌ، وَلِي حَاجَةٌ شَدِيدَةٌ. قَالَ فَخَلَّيْتُ عَنْهُ فَأَصْبَحْتُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ الْبَارِحَةَ ". قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَكَا حَاجَةً شَدِيدَةً وَعِيَالاً فَرَحِمْتُهُ، فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ. قَالَ " أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَذَبَكَ وَسَيَعُودُ ". فَعَرَفْتُ أَنَّهُ سَيَعُودُ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّهُ سَيَعُودُ. فَرَصَدْتُهُ فَجَاءَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ فَأَخَذْتُهُ فَقُلْتُ لأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. قَالَ دَعْنِي فَإِنِّي مُحْتَاجٌ، وَعَلَىَّ عِيَالٌ لاَ أَعُودُ، فَرَحِمْتُهُ، فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ فَأَصْبَحْتُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ ". قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ شَكَا حَاجَةً شَدِيدَةً وَعِيَالاً، فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ. قَالَ " أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَذَبَكَ وَسَيَعُودُ ". فَرَصَدْتُهُ الثَّالِثَةَ فَجَاءَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ، فَأَخَذْتُهُ فَقُلْتُ لأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، وَهَذَا آخِرُ ثَلاَثِ مَرَّاتٍ أَنَّكَ تَزْعُمُ لاَ تَعُودُ ثُمَّ تَعُودُ. قَالَ دَعْنِي أُعَلِّمْكَ كَلِمَاتٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهَا. قُلْتُ مَا هُوَ قَالَ إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَاقْرَأْ آيَةَ الْكُرْسِيِّ {اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَىُّ الْقَيُّومُ} حَتَّى تَخْتِمَ الآيَةَ، فَإِنَّكَ لَنْ يَزَالَ عَلَيْكَ مِنَ اللَّهِ حَافِظٌ وَلاَ يَقْرَبَنَّكَ شَيْطَانٌ حَتَّى تُصْبِحَ. فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ فَأَصْبَحْتُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ الْبَارِحَةَ ". قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَعَمَ أَنَّهُ يُعَلِّمُنِي كَلِمَاتٍ، يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهَا، فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ. قَالَ " مَا هِيَ ". قُلْتُ قَالَ لِي إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَاقْرَأْ آيَةَ الْكُرْسِيِّ مِنْ أَوَّلِهَا حَتَّى تَخْتِمَ {اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَىُّ الْقَيُّومُ} وَقَالَ لِي لَنْ يَزَالَ عَلَيْكَ مِنَ اللَّهِ حَافِظٌ وَلاَ يَقْرَبَكَ شَيْطَانٌ حَتَّى تُصْبِحَ، وَكَانُوا أَحْرَصَ شَىْءٍ عَلَى الْخَيْرِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَمَا إِنَّهُ قَدْ صَدَقَكَ وَهُوَ كَذُوبٌ، تَعْلَمُ مَنْ تُخَاطِبُ مُنْذُ ثَلاَثِ لَيَالٍ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ". قَالَ لاَ. قَالَ " ذَاكَ شَيْطَانٌ ".
It is narrated from Hadrat Abu Huraira (may Allah be well pleased with him) who stated: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) deputed me to guard the charity (Zakat al-Fitr) of Ramadan. Someone came at night and began taking handfuls of foodstuff. I seized him and said: 'By Allah, I shall take you to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)!' He said: 'I am needy with dependents and in dire need.' So I let him go. In the morning, the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) asked: 'O Hadrat Abu Huraira, what did your captive do last night?' I submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), he complained of dire need and dependents, so I took pity and released him.' He stated: 'Indeed, he lied to you and he will return.' I was certain he would return because the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) had said so. I lay in wait. He came again, taking handfuls of food. I caught him and said: 'I shall certainly take you to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)!' He pleaded: 'Let me go, I am needy with dependents; I will not come again.' I took pity and released him. In the morning, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) asked: 'O Hadrat Abu Huraira, what did your captive do?' I submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), he again complained of dire need and dependents, so I took pity and released him.' He stated: 'He lied to you and he will return.' I lay in wait the third time. When he came taking handfuls of food, I caught him and said: 'I shall certainly take you to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! This is the third time you promise not to return, yet you come back.' He said: 'Let me go and I will teach you words by which Allah will benefit you.' I asked: 'What are they?' He said: 'When you go to bed, recite Ayat al-Kursi: Allah, there is no god but He, the Ever-Living, the Self-Subsisting, to the end. A guardian from Allah will remain with you, and no devil will come near you until morning.' I let him go. In the morning, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) asked: 'What did your captive do last night?' I submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), he claimed he would teach me words by which Allah would benefit me, so I let him go.' He asked: 'What are they?' I submitted: 'He told me to recite Ayat al-Kursi from its beginning to its end when going to bed, and that a guardian from Allah would remain upon me and no devil would come near me until morning.' The Companions were most eager for good deeds. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'He told you the truth, though he is a consummate liar. Do you know whom you have been speaking with these three nights, O Hadrat Abu Huraira?' I submitted: 'No.' He stated: 'That was a devil.'
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے رمضان کی زکوٰۃ (فطر) کی حفاظت پر مقرر فرمایا۔ ایک رات ایک آنے والا آیا اور غلہ میں سے لپ بھر بھر کر لینے لگا۔ میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا: بخدا! میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لے جاؤں گا۔ اس نے کہا: میں محتاج ہوں، بال بچے ہیں اور سخت ضرورت ہے۔ تو میں نے اسے چھوڑ دیا۔ صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے حضرت ابو ہریرہ! گزشتہ رات تمہارے قیدی نے کیا کیا؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے سخت ضرورت اور بال بچوں کا رونا رویا تو مجھے رحم آ گیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا۔ ارشاد فرمایا: سنو! اس نے تم سے جھوٹ بولا ہے اور وہ پھر آئے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سے مجھے یقین تھا کہ وہ پھر آئے گا۔ میں اس کی تاک میں رہا۔ وہ آیا اور غلہ اٹھانے لگا تو میں نے پکڑا اور کہا: تجھے ضرور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لے جاؤں گا۔ اس نے کہا: مجھے چھوڑ دو، میں محتاج ہوں، بال بچے ہیں، اب نہیں آؤں گا۔ مجھے رحم آیا اور چھوڑ دیا۔ صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے حضرت ابو ہریرہ! تمہارے قیدی نے کیا کیا؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے پھر سخت ضرورت اور بال بچوں کا رونا رویا تو رحم آ گیا اور چھوڑ دیا۔ ارشاد فرمایا: اس نے تم سے جھوٹ بولا ہے اور وہ پھر آئے گا۔ تیسری رات میں پھر اس کے انتظار میں رہا۔ جب وہ آ کر غلہ اٹھانے لگا تو میں نے پکڑا اور کہا: اب تو ضرور تجھے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لے جاؤں گا۔ یہ تیسری بار ہے کہ تم کہتے ہو واپس نہیں آؤں گا مگر پھر آ جاتے ہو۔ اس نے کہا: مجھے چھوڑ دو، میں تمہیں ایسے کلمات سکھاتا ہوں جن سے اللہ تعالیٰ تمہیں نفع پہنچائے۔ میں نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟ اس نے کہا: جب تم بستر پر جاؤ تو آیت الکرسی ﴿اللّٰہ لا الٰہ الّا ھو الحیّ القیّوم﴾ آخر تک پڑھ لو، تم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک محافظ مقرر رہے گا اور صبح تک شیطان تمہارے قریب نہیں آ سکے گا۔ میں نے اسے چھوڑ دیا۔ صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: گزشتہ رات تمہارے قیدی نے کیا کیا؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے کہا کہ مجھے ایسے کلمات سکھائے گا جن سے اللہ تعالیٰ مجھے نفع پہنچائے، تو میں نے اسے چھوڑ دیا۔ ارشاد فرمایا: وہ کیا ہیں؟ میں نے عرض کیا: اس نے مجھ سے کہا: جب بستر پر جاؤ تو آیت الکرسی شروع سے آخر تک پڑھو ﴿اللّٰہ لا الٰہ الّا ھو الحیّ القیّوم﴾ اور کہا: اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر ایک محافظ رہے گا اور صبح تک شیطان تمہارے قریب نہیں آ سکے گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم خیر حاصل کرنے کے سب سے زیادہ حریص تھے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس نے تمہیں سچ بتایا ہے حالانکہ وہ بڑا جھوٹا ہے۔ اے حضرت ابو ہریرہ! کیا تم جانتے ہو کہ تین راتوں سے تم کس سے بات کر رہے تھے؟ میں نے عرض کیا: نہیں۔ ارشاد فرمایا: وہ شیطان تھا۔