عربی (اصل)
وَقَالَ أَبُو الزِّنَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ بَعَثَهُ مُصَدِّقًا، فَوَقَعَ رَجُلٌ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ، فَأَخَذَ حَمْزَةُ مِنَ الرَّجُلِ كَفِيلاً حَتَّى قَدِمَ عَلَى عُمَرَ، وَكَانَ عُمَرُ قَدْ جَلَدَهُ مِائَةَ جَلْدَةٍ، فَصَدَّقَهُمْ، وَعَذَرَهُ بِالْجَهَالَةِ. وَقَالَ جَرِيرٌ وَالأَشْعَثُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي الْمُرْتَدِّينَ اسْتَتِبْهُمْ، وَكَفِّلْهُمْ. فَتَابُوا وَكَفَلَهُمْ عَشَائِرُهُمْ. وَقَالَ حَمَّادٌ إِذَا تَكَفَّلَ بِنَفْسٍ فَمَاتَ فَلاَ شَىْءَ عَلَيْهِ. وَقَالَ الْحَكَمُ يَضْمَنُ.
انگریزی ترجمہ
Abu al-Zinad narrated from Muhammad bin Hamzah bin 'Amr al-Aslami, from his father Hamzah, who said: Hadrat 'Umar (may Allah be well pleased with him) sent him during his caliphate as a zakat collector. A man had committed intercourse with his wife's slave-girl. Hamzah took a guarantor from the man until he was brought before Hadrat 'Umar (may Allah be well pleased with him). Hadrat 'Umar (may Allah be well pleased with him) had lashed him a hundred lashes, then accepted his claim as truthful and excused him on account of ignorance. And Hadrat Jarir and Ash'ath submitted to Hadrat Abdullah bin Mas'ud (may Allah be well pleased with him) regarding the apostates: Have them repent and take sureties from them (that they will not apostatize again). So they repented and their tribesmen stood as their sureties. Hammad said: If someone stands as surety for a person's appearance and that person dies, the guarantor bears no liability. But al-Hakam said: The (financial) obligation must still be fulfilled.
اردو ترجمہ
ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے محمد بن حمزہ بن عمرو الاسلمی نے اور ان سے ان کے والد حمزہ نے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے عہدِ خلافت میں انہیں زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ ایک شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی سے ہمبستری کر لی۔ حمزہ نے اس شخص سے ضامن لیا یہاں تک کہ وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے سو کوڑے مارے تھے، پھر اس کی بات کی تصدیق فرمائی اور جہالت کا عذر قبول فرما کر اسے معاف کر دیا۔ اور حضرت جریر اور اشعث نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرتدین کے بارے میں عرض کیا کہ ان سے توبہ کرائیے اور ان کی ضمانت لیجیے (کہ آئندہ مرتد نہ ہوں گے)۔ چنانچہ انہوں نے توبہ کی اور ان کے قبیلے والوں نے ان کی ضمانت دی۔ حماد نے فرمایا: جب کسی نے کسی شخص کی حاضری کی ضمانت دی ہو اور وہ شخص فوت ہو جائے تو ضامن پر کچھ (تاوان) نہیں۔ لیکن حکم نے فرمایا کہ (مالی) ذمہ داری ادا کرنی ہو گی۔
