عربی (اصل)
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ وَاسْتَأْجَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ رَجُلاً مِنْ بَنِي الدِّيلِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ بْنِ عَدِيٍّ هَادِيًا خِرِّيتًا ـ الْخِرِّيتُ الْمَاهِرُ بِالْهِدَايَةِ ـ قَدْ غَمَسَ يَمِينَ حِلْفٍ فِي آلِ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ، وَهْوَ عَلَى دِينِ كُفَّارِ قُرَيْشٍ، فَأَمِنَاهُ فَدَفَعَا إِلَيْهِ رَاحِلَتَيْهِمَا، وَوَعَدَاهُ غَارَ ثَوْرٍ بَعْدَ ثَلاَثِ لَيَالٍ، فَأَتَاهُمَا بِرَاحِلَتَيْهِمَا، صَبِيحَةَ لَيَالٍ ثَلاَثٍ، فَارْتَحَلاَ، وَانْطَلَقَ مَعَهُمَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ، وَالدَّلِيلُ الدِّيلِيُّ فَأَخَذَ بِهِمْ أَسْفَلَ مَكَّةَ وَهْوَ طَرِيقُ السَّاحِلِ.
انگریزی ترجمہ
Ibrahim bin Musa narrated to us, he said Hisham informed us, from Ma'mar, from al-Zuhri, from 'Urwah bin al-Zubayr, from Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha al-Siddiqah (may Allah be well pleased with her), who narrated that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and Hadrat Abu Bakr al-Siddiq (may Allah be well pleased with him) hired a man from the tribe of Banu al-Dil, then from Banu Abd bin Adi, as an expert guide. The word 'khirrit' means one who is a master in guiding the way. He had entered into an oath-alliance with the family of al-'As bin Wa'il, and he was upon the religion of the pagans of Quraysh. However, both of them trusted him and gave him their two riding camels and agreed to meet him at the Cave of Thawr after three nights. He came to them with their two riding camels on the morning after three nights. So they departed, and 'Amir bin Fuhayrah accompanied them along with the Dili guide who took them below Makkah via the coastal route.
اردو ترجمہ
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں عروہ بن حضرت زبیر نے اور انہیں حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (ہجرت کے وقت) بنو دیل کے ایک شخص کو اجرت پر رکھا جو بنو عبد بن عدی کے خاندان سے تھا۔ انہیں بطور ماہر راہبر مزدوری پر رکھا تھا۔ خِرِّیت سے مراد راستے کی رہنمائی میں ماہر ہے۔ اس نے عاص بن وائل کے خاندان سے (پانی میں ہاتھ ڈبو کر) حلف اٹھایا تھا اور وہ کفارِ قریش ہی کے دین پر تھا۔ لیکن ان دونوں حضرات نے اس پر بھروسہ کیا اور اپنی دونوں سواریاں اس کے حوالے کر دیں اور غارِ ثور پر تین رات کے بعد سواریاں لے کر آنے کا وعدہ لیا۔ وہ شخص تین راتوں کی صبح سواریاں لے کر حاضر ہو گیا۔ پس دونوں حضرات روانہ ہوئے اور ان کے ساتھ عامر بن فہیرہ بھی تھے اور وہ دیلی راہبر بھی۔ اس نے سب کو مکہ کے نچلے حصے سے ساحل کے راستے لے کر چلا۔
