عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ أَفْطَرَ، فَأَفْطَرَ النَّاسُ. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَالْكَدِيدُ مَاءٌ بَيْنَ عُسْفَانَ وَقُدَيْدٍ.
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) set out for Makkah in the month of Ramadan and he was fasting. When he reached al-Kadid, he broke his fast, and the people also broke their fast. Abu Hadrat Abdullah (Imam Bukhari, may the mercy of Allah be upon him) said, "Al-Kadid is a water source between Usfan and Qudaid."
اردو ترجمہ
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے اور انہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم (فتح مکہ کے موقع پر) مکہ مکرمہ کی طرف رمضان میں روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم روزے سے تھے، لیکن جب کدید پہنچے تو روزہ رکھنا چھوڑ دیا اور لوگوں نے بھی افطار کر لیا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) نے فرمایا کہ عسفان اور قدید کے درمیان کدید ایک تالاب ہے۔
