عربی (اصل)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدِيثًا طَوِيلاً عَنِ الدَّجَّالِ، فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَنَا بِهِ أَنْ قَالَ " يَأْتِي الدَّجَّالُ ـ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِ أَنْ يَدْخُلَ نِقَابَ الْمَدِينَةِ ـ بَعْضَ السِّبَاخِ الَّتِي بِالْمَدِينَةِ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ يَوْمَئِذٍ رَجُلٌ، هُوَ خَيْرُ النَّاسِ ـ أَوْ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ ـ فَيَقُولُ أَشْهَدُ أَنَّكَ الدَّجَّالُ، الَّذِي حَدَّثَنَا عَنْكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدِيثَهُ، فَيَقُولُ الدَّجَّالُ أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلْتُ هَذَا ثُمَّ أَحْيَيْتُهُ، هَلْ تَشُكُّونَ فِي الأَمْرِ فَيَقُولُونَ لاَ. فَيَقْتُلُهُ، ثُمَّ يُحْيِيهِ فَيَقُولُ حِينَ يُحْيِيهِ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ قَطُّ أَشَدَّ بَصِيرَةً مِنِّي الْيَوْمَ، فَيَقُولُ الدَّجَّالُ أَقْتُلُهُ فَلاَ أُسَلَّطُ عَلَيْهِ ".
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be well pleased with him) narrates: 'The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) told us a lengthy hadith about the Dajjal. Among the things he narrated was: "The Dajjal will come, and it will be forbidden for him to enter the passages of Madinah. He will reach one of the barren salty lands near Madinah. On that day, a man — the best of people or among the best — will go out to him and say: 'I testify that you are the Dajjal about whom the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) informed us.' The Dajjal will say: 'If I kill this man and then bring him back to life, will you have any doubt about my claim?' They will say: 'No.' So the Dajjal will kill him and then bring him back to life. When restored to life, the man will say: 'By Allah! I have never had more insight about you than I do today (i.e., now I am fully certain you are the Dajjal).' The Dajjal will say: 'Let me kill him again,' but he will not be given power over him."'
اردو ترجمہ
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے دجّال کے بارے میں ایک طویل حدیث بیان فرمائی۔ آپ نے جو کچھ بیان فرمایا اس میں یہ بھی تھا: دجّال آئے گا اور اس پر مدینہ کے راستوں میں داخل ہونا حرام ہو گا۔ وہ مدینہ کی کسی شور زمین تک پہنچے گا۔ اس دن ایک شخص اس کی طرف نکلے گا جو لوگوں میں بہترین ہو گا یا بہترین لوگوں میں سے ہو گا۔ وہ کہے گا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی دجّال ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خبر دی تھی۔ دجّال کہے گا: اگر میں اسے مار کر دوبارہ زندہ کر دوں تو کیا تمہیں میرے معاملے میں شک رہے گا؟ وہ کہیں گے: نہیں۔ چنانچہ دجّال اسے مار ڈالے گا پھر زندہ کر دے گا۔ جب زندہ ہو گا تو کہے گا: بخدا! آج سے پہلے مجھے تیرے بارے میں اتنی بصیرت نہ تھی (یعنی اب مجھے پوری طرح یقین ہو گیا کہ تو دجّال ہے)۔ دجّال کہے گا: اسے پھر مار ڈالوں، لیکن اسے دوبارہ قابو نہ آئے گا۔
