عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حَيْثُ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ مَالَ إِلَى الشِّعْبِ فَقَضَى حَاجَتَهُ فَتَوَضَّأَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُصَلِّي فَقَالَ " الصَّلاَةُ أَمَامَكَ ".
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Usama bin Zaid (may Allah be well pleased with them both) that as soon as the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) departed from 'Arafat, he went towards the mountain pass, and there he answered the call of nature. He (Hadrat Usama) submitted, 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! Will you offer the prayer here?' He stated, '(The place of) the prayer is ahead of you (i.e. at al-Muzdalifa).'
اردو ترجمہ
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے، ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے غلام کریب نے اور ان سے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم عرفات سے واپس تشریف لائے تھے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم (راہ میں) ایک گھاٹی کی طرف مڑے اور وہاں قضائے حاجت فرمائی پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے وضو فرمایا تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا (آپ مغرب کی) نماز پڑھیں گے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا نماز آگے چل کر پڑھی جائے گی۔ (یعنی عرفات سے مزدلفہ آتے ہوئے قضائے حاجت وغیرہ کے لیے راستہ میں رکنے میں کوئی حرج نہیں ہے)۔
