It is narrated by Hadrat Sa'd bin Abi Waqqas (may Allah be well pleased with him) that he said: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) distributed some wealth among a group of people while I was sitting among them. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) left out a man among them and did not give him anything, though he was the one I admired most. So I went up to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and whispered, 'Why have you left out so-and-so? By Allah, I consider him a believer.' He stated, 'Or merely a Muslim.' I remained silent for a while, but what I knew about him compelled me, so I said, 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! Why have you left out so-and-so? By Allah, I consider him a believer.' He stated, 'Or merely a Muslim.' This happened three times. Then the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'I give to a certain man while another is more beloved to me than him, out of fear that the former may be thrown into the Hellfire on his face.' And (through another chain) Isma'il bin Muhammad said: I heard my father narrating the same hadith. He said: Then the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) placed his blessed hand between my neck and shoulder and stated, 'Listen, O Sa'd! I give to a certain man...' (to the end of the hadith). Abu Hadrat Abdullah (Imam al-Bukhari, upon him be mercy) said: The word 'kubkibu' in the Quran means 'to be thrown face down,' and 'mukibban' in Surah al-Mulk is derived from 'akabba' (intransitive — he fell face down), while its transitive form is 'kabba' — 'kabbahullahu li-wajhihi' means 'Allah threw him on his face' and 'kababtuhu' means 'I threw him face down.'
اردو ترجمہ
ہم سے محمد بن غریر زہری نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے اپنے والد سے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے، کہا کہ مجھے عامر بن حضرت سعد بن ابی وقاص نے اپنے والد سے خبر دی۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے چند اشخاص کو کچھ مال عطا فرمایا اور اسی جگہ میں بھی بیٹھا ہوا تھا۔ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ ہی بیٹھے ہوئے ایک شخص کو چھوڑ دیا اور انہیں کچھ نہیں دیا حالانکہ ان لوگوں میں وہی مجھے زیادہ پسند تھا۔ آخر میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے قریب جا کر چپکے سے عرض کیا: فلاں شخص کو آپ نے کچھ بھی نہیں دیا؟ واللہ میں اسے مومن خیال کرتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یا مسلمان؟ بیان کیا کہ اس پر میں تھوڑی دیر تک خاموش رہا لیکن میں ان کے متعلق جو کچھ جانتا تھا اس نے مجھے مجبور کیا اور میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ فلاں شخص سے کیوں خفا ہیں؟ واللہ! میں اسے مومن سمجھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یا مسلمان؟ تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں ایک شخص کو دیتا ہوں (اور دوسرے کو نظر انداز فرما جاتا ہوں) حالانکہ وہ دوسرا میری نظر میں پہلے سے زیادہ محبوب ہوتا ہے، کیونکہ (جس کو میں دیتا ہوں نہ دینے کی صورت میں) مجھے ڈر اس بات کا رہتا ہے کہ کہیں اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں نہ ڈال دیا جائے۔ اور (یعقوب بن ابراہیم) اپنے والد سے، وہ صالح سے، وہ اسماعیل بن محمد سے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد سے سنا کہ وہ یہی حدیث بیان فرما رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک میری گردن اور کندھے کے بیچ رکھا اور ارشاد فرمایا: اے سعد! ادھر سنو، میں ایک شخص کو دیتا ہوں... آخر حدیث تک۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) نے فرمایا کہ قرآن مجید میں لفظ «كبكبوا» اوندھے لٹا دینے کے معنی میں ہے اور سورۃ الملک میں جو «مكبا» کا لفظ ہے وہ «أكب» سے نکلا ہے۔ «أكب» لازم ہے یعنی اوندھا گرا اور اس کا متعدی «كب» ہے۔ کہتے ہیں «كبه الله لوجهه» یعنی اللہ نے اسے اوندھے منہ گرا دیا اور «كببته» یعنی میں نے اس کو اوندھا گرایا۔
It is narrated by Hadrat Sa'd bin Abi Waqqas (may Allah be well pleased with him) that he said: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) distributed some wealth among a group of people while I was sitting among them. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) left out a man among them and did not give him anything, though he was the one I admired most. So I went up to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and whispered, 'Why have you left out so-and-so? By Allah, I consider him a believer.' He stated, 'Or merely a Muslim.' I remained silent for a while, but what I knew about him compelled me, so I said, 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! Why have you left out so-and-so? By Allah, I consider him a believer.' He stated, 'Or merely a Muslim.' This happened three times. Then the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'I give to a certain man while another is more beloved to me than him, out of fear that the former may be thrown into the Hellfire on his face.' And (through another chain) Isma'il bin Muhammad said: I heard my father narrating the same hadith. He said: Then the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) placed his blessed hand between my neck and shoulder and stated, 'Listen, O Sa'd! I give to a certain man...' (to the end of the hadith). Abu Hadrat Abdullah (Imam al-Bukhari, upon him be mercy) said: The word 'kubkibu' in the Quran means 'to be thrown face down,' and 'mukibban' in Surah al-Mulk is derived from 'akabba' (intransitive — he fell face down), while its transitive form is 'kabba' — 'kabbahullahu li-wajhihi' means 'Allah threw him on his face' and 'kababtuhu' means 'I threw him face down.'
ہم سے محمد بن غریر زہری نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے اپنے والد سے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے، کہا کہ مجھے عامر بن حضرت سعد بن ابی وقاص نے اپنے والد سے خبر دی۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے چند اشخاص کو کچھ مال عطا فرمایا اور اسی جگہ میں بھی بیٹھا ہوا تھا۔ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ ہی بیٹھے ہوئے ایک شخص کو چھوڑ دیا اور انہیں کچھ نہیں دیا حالانکہ ان لوگوں میں وہی مجھے زیادہ پسند تھا۔ آخر میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے قریب جا کر چپکے سے عرض کیا: فلاں شخص کو آپ نے کچھ بھی نہیں دیا؟ واللہ میں اسے مومن خیال کرتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یا مسلمان؟ بیان کیا کہ اس پر میں تھوڑی دیر تک خاموش رہا لیکن میں ان کے متعلق جو کچھ جانتا تھا اس نے مجھے مجبور کیا اور میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ فلاں شخص سے کیوں خفا ہیں؟ واللہ! میں اسے مومن سمجھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یا مسلمان؟ تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں ایک شخص کو دیتا ہوں (اور دوسرے کو نظر انداز فرما جاتا ہوں) حالانکہ وہ دوسرا میری نظر میں پہلے سے زیادہ محبوب ہوتا ہے، کیونکہ (جس کو میں دیتا ہوں نہ دینے کی صورت میں) مجھے ڈر اس بات کا رہتا ہے کہ کہیں اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں نہ ڈال دیا جائے۔ اور (یعقوب بن ابراہیم) اپنے والد سے، وہ صالح سے، وہ اسماعیل بن محمد سے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد سے سنا کہ وہ یہی حدیث بیان فرما رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک میری گردن اور کندھے کے بیچ رکھا اور ارشاد فرمایا: اے سعد! ادھر سنو، میں ایک شخص کو دیتا ہوں... آخر حدیث تک۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) نے فرمایا کہ قرآن مجید میں لفظ «كبكبوا» اوندھے لٹا دینے کے معنی میں ہے اور سورۃ الملک میں جو «مكبا» کا لفظ ہے وہ «أكب» سے نکلا ہے۔ «أكب» لازم ہے یعنی اوندھا گرا اور اس کا متعدی «كب» ہے۔ کہتے ہیں «كبه الله لوجهه» یعنی اللہ نے اسے اوندھے منہ گرا دیا اور «كببته» یعنی میں نے اس کو اوندھا گرایا۔