حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ انْطَلَقَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي رَهْطٍ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ، حَتَّى وَجَدُوهُ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ، وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ الْحُلُمَ فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ لاِبْنِ صَيَّادٍ " تَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ". فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الأُمِّيِّينَ. فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَرَفَضَهُ وَقَالَ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ. فَقَالَ لَهُ " مَاذَا تَرَى ". قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " خُلِّطَ عَلَيْكَ الأَمْرُ " ثُمَّ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا ". فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ هُوَ الدُّخُّ. فَقَالَ " اخْسَأْ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ ". فَقَالَ عُمَرُ ـ رضى الله عنه ـ دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنْ يَكُنْهُ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْهُ فَلاَ خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ ". وَقَالَ سَالِمٌ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ إِلَى النَّخْلِ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ وَهُوَ يَخْتِلُ أَنْ يَسْمَعَ مِنِ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ ابْنُ صَيَّادٍ فَرَآهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُضْطَجِعٌ، يَعْنِي فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا رَمْزَةٌ أَوْ زَمْرَةٌ، فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ فَقَالَتْ لاِبْنِ صَيَّادٍ يَا صَافِ ـ وَهْوَ اسْمُ ابْنِ صَيَّادٍ ـ هَذَا مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم. فَثَارَ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ ". وَقَالَ شُعَيْبٌ فِي حَدِيثِهِ فَرَفَصَهُ رَمْرَمَةٌ، أَوْ زَمْزَمَةٌ. وَقَالَ إِسْحَاقُ الْكَلْبِيُّ وَعُقَيْلٌ رَمْرَمَةٌ. وَقَالَ مَعْمَرٌ رَمْزَةٌ.
انگریزی ترجمہ
Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them) narrated that Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) set out with the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) along with a group of Companions towards Ibn Saiyad. They found him playing with boys near the dwellings of Banu Mughala. Ibn Saiyad at that time was nearing puberty. He did not notice anything until the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) placed his blessed hand upon him. Then he stated to Ibn Saiyad, 'Do you bear witness that I am the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)?' Ibn Saiyad looked at him and said, 'I bear witness that you are the Messenger of the unlettered.' Then Ibn Saiyad asked the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), 'Do you bear witness that I am the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)?' He rejected this and stated, 'I believe in Allah and His Messengers.' Then he asked him, 'What do you see?' Ibn Saiyad said, 'True and false things come to me.' The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'Your matter has become confused.' Then he stated, 'I have concealed something in my mind for you (tell me what it is).' Ibn Saiyad said, 'It is Ad-Dukh (the smoke).' He stated, 'Be off with you! You shall never exceed your limit.' Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) submitted, 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! Permit me to strike off his neck.' He stated, 'If he is him (i.e. the Dajjal), then you will not be able to overpower him; and if he is not, then there is no good for you in killing him.' Salim stated: I heard Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them) say: After that, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) went with Hadrat Ubai bin Ka'b (may Allah be well pleased with him) to the date-palm garden where Ibn Saiyad was staying. He wished to hear something from Ibn Saiyad before Ibn Saiyad could see him. He saw him lying in a blanket, murmuring or humming. Ibn Saiyad's mother spotted the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) while he was taking cover behind the trunks of the date-palms. She called out to Ibn Saiyad, 'O Saf!' — that being his name — 'Here is Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him).' Ibn Saiyad jumped up. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'Had this woman left him alone, his reality would have become clear.'
اردو ترجمہ
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہمیں عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں زہری نے خبر دی، کہا مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے انہیں بتایا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ کچھ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ساتھ ابن صیاد کی طرف گئے۔ انہوں نے اسے بنو مغالہ کے مکانات کے قریب بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے پایا۔ ابن صیاد ان دنوں بلوغت کے قریب تھا۔ اسے خبر ہی نہ ہوئی یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس پر رکھا۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ابن صیاد سے ارشاد فرمایا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ ابن صیاد نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھا اور بولا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ان پڑھوں (امیوں) کے رسول ہیں۔ پھر ابن صیاد نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کو ٹھکرا دیا اور ارشاد فرمایا: میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا: تجھے کیا دکھائی دیتا ہے؟ ابن صیاد بولا: میرے پاس سچی اور جھوٹی دونوں خبریں آتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تیرا معاملہ گڈمڈ ہو گیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے تیرے لیے ایک بات دل میں رکھی ہے (بتا کیا ہے)۔ ابن صیاد نے کہا: وہ «دخ» (دھواں) ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دور ہو! تو اپنی حد سے آگے ہرگز نہ بڑھ سکے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجیے، میں اس کی گردن مار دوں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر یہ دجال ہے تو تم اس پر غالب نہ آ سکو گے، اور اگر دجال نہیں ہے تو اسے قتل کرنا تمہارے لیے بہتر نہ ہوگا۔ سالم نے فرمایا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو یہ فرماتے سنا کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ اس کھجور کے باغ کی طرف تشریف لے گئے جہاں ابن صیاد ٹھہرا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم چاہتے تھے کہ ابن صیاد کے دیکھنے سے پہلے اس کی کوئی بات سن لیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ وہ اپنی چادر میں لیٹا ہوا ہے جس سے بڑبڑاہٹ یا گنگناہٹ آ رہی تھی۔ ابن صیاد کی ماں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ لیا جبکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کھجور کے تنوں کی آڑ لے رہے تھے۔ اس نے ابن صیاد سے کہا: اے صاف! (یہ ابن صیاد کا نام تھا) یہ محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ ابن صیاد اچانک اچھل پڑا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر یہ عورت اسے چھوڑ دیتی تو اس کی حقیقت واضح ہو جاتی۔
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (13)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحیح بخاری
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ أ…
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ انْطَلَقَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي رَهْطٍ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ، حَتَّى وَجَدُوهُ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ، وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ الْحُلُمَ فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ لاِبْنِ صَيَّادٍ " تَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ". فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الأُمِّيِّينَ. فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَرَفَضَهُ وَقَالَ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ. فَقَالَ لَهُ " مَاذَا تَرَى ". قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " خُلِّطَ عَلَيْكَ الأَمْرُ " ثُمَّ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا ". فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ هُوَ الدُّخُّ. فَقَالَ " اخْسَأْ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ ". فَقَالَ عُمَرُ ـ رضى الله عنه ـ دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنْ يَكُنْهُ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْهُ فَلاَ خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ ". وَقَالَ سَالِمٌ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ إِلَى النَّخْلِ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ وَهُوَ يَخْتِلُ أَنْ يَسْمَعَ مِنِ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ ابْنُ صَيَّادٍ فَرَآهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُضْطَجِعٌ، يَعْنِي فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا رَمْزَةٌ أَوْ زَمْرَةٌ، فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ فَقَالَتْ لاِبْنِ صَيَّادٍ يَا صَافِ ـ وَهْوَ اسْمُ ابْنِ صَيَّادٍ ـ هَذَا مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم. فَثَارَ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ ". وَقَالَ شُعَيْبٌ فِي حَدِيثِهِ فَرَفَصَهُ رَمْرَمَةٌ، أَوْ زَمْزَمَةٌ. وَقَالَ إِسْحَاقُ الْكَلْبِيُّ وَعُقَيْلٌ رَمْرَمَةٌ. وَقَالَ مَعْمَرٌ رَمْزَةٌ.
Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them) narrated that Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) set out with the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) along with a group of Companions towards Ibn Saiyad. They found him playing with boys near the dwellings of Banu Mughala. Ibn Saiyad at that time was nearing puberty. He did not notice anything until the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) placed his blessed hand upon him. Then he stated to Ibn Saiyad, 'Do you bear witness that I am the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)?' Ibn Saiyad looked at him and said, 'I bear witness that you are the Messenger of the unlettered.' Then Ibn Saiyad asked the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), 'Do you bear witness that I am the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)?' He rejected this and stated, 'I believe in Allah and His Messengers.' Then he asked him, 'What do you see?' Ibn Saiyad said, 'True and false things come to me.' The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'Your matter has become confused.' Then he stated, 'I have concealed something in my mind for you (tell me what it is).' Ibn Saiyad said, 'It is Ad-Dukh (the smoke).' He stated, 'Be off with you! You shall never exceed your limit.' Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) submitted, 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! Permit me to strike off his neck.' He stated, 'If he is him (i.e. the Dajjal), then you will not be able to overpower him; and if he is not, then there is no good for you in killing him.' Salim stated: I heard Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them) say: After that, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) went with Hadrat Ubai bin Ka'b (may Allah be well pleased with him) to the date-palm garden where Ibn Saiyad was staying. He wished to hear something from Ibn Saiyad before Ibn Saiyad could see him. He saw him lying in a blanket, murmuring or humming. Ibn Saiyad's mother spotted the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) while he was taking cover behind the trunks of the date-palms. She called out to Ibn Saiyad, 'O Saf!' — that being his name — 'Here is Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him).' Ibn Saiyad jumped up. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'Had this woman left him alone, his reality would have become clear.'
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہمیں عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں زہری نے خبر دی، کہا مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے انہیں بتایا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ کچھ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ساتھ ابن صیاد کی طرف گئے۔ انہوں نے اسے بنو مغالہ کے مکانات کے قریب بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے پایا۔ ابن صیاد ان دنوں بلوغت کے قریب تھا۔ اسے خبر ہی نہ ہوئی یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس پر رکھا۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ابن صیاد سے ارشاد فرمایا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ ابن صیاد نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھا اور بولا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ان پڑھوں (امیوں) کے رسول ہیں۔ پھر ابن صیاد نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کو ٹھکرا دیا اور ارشاد فرمایا: میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا: تجھے کیا دکھائی دیتا ہے؟ ابن صیاد بولا: میرے پاس سچی اور جھوٹی دونوں خبریں آتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تیرا معاملہ گڈمڈ ہو گیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے تیرے لیے ایک بات دل میں رکھی ہے (بتا کیا ہے)۔ ابن صیاد نے کہا: وہ «دخ» (دھواں) ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دور ہو! تو اپنی حد سے آگے ہرگز نہ بڑھ سکے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجیے، میں اس کی گردن مار دوں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر یہ دجال ہے تو تم اس پر غالب نہ آ سکو گے، اور اگر دجال نہیں ہے تو اسے قتل کرنا تمہارے لیے بہتر نہ ہوگا۔ سالم نے فرمایا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو یہ فرماتے سنا کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ اس کھجور کے باغ کی طرف تشریف لے گئے جہاں ابن صیاد ٹھہرا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم چاہتے تھے کہ ابن صیاد کے دیکھنے سے پہلے اس کی کوئی بات سن لیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ وہ اپنی چادر میں لیٹا ہوا ہے جس سے بڑبڑاہٹ یا گنگناہٹ آ رہی تھی۔ ابن صیاد کی ماں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ لیا جبکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کھجور کے تنوں کی آڑ لے رہے تھے۔ اس نے ابن صیاد سے کہا: اے صاف! (یہ ابن صیاد کا نام تھا) یہ محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ ابن صیاد اچانک اچھل پڑا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر یہ عورت اسے چھوڑ دیتی تو اس کی حقیقت واضح ہو جاتی۔
738/(958/1)عن عبد الله بن عمر: أن عمر بن الخطاب انطلق مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في رهط من أصحابه قبل ابن صياد، حتى وجدوه يلعب مع الغلمان في أطمّ(1)بني مغالة، وقد قارب ابن صيا…