عربی (اصل)
الْكُوفِيُّ قَالَ نا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ قَالَ نا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي يَعْلَى عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ أَرْسَلَنِي أَبِي بِصَحِيفَةٍ إِلَى عُثْمَانَ فِيهَا فَرَائِضُ فَقَالَ هَذِهِ فَرَائِضُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي كَانَ يَبْعَثُ عَلَيْهَا السُّعَاةَ فَقَالَ لَا حَاجَةَ لَنَا فِيهَا فَأَتَيْتُ أَبِي فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ دَعْهَا قَالَ ابْنُ الْحَنَفِيَّةِ فَلَوْ كَانَ عَلِيٌّ سَابَّهُ لَسَبَّهُ يَوْمَئِذٍ وَهَذَا الْحَدِيثُ لَا نَعْلَمُهُ يُرْوَى بِهَذَا اللَّفْظِ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ الْكُوفِيُّ قَالَ نا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ قَالَ نا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي يَعْلَى عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ أَرْسَلَنِي أَبِي بِصَحِيفَةٍ إِلَى عُثْمَانَ فِيهَا فَرَائِضُ فَقَالَ هَذِهِ فَرَائِضُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي كَانَ يَبْعَثُ عَلَيْهَا السُّعَاةَ فَقَالَ لَا حَاجَةَ لَنَا فِيهَا فَأَتَيْتُ أَبِي فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ دَعْهَا قَالَ ابْنُ الْحَنَفِيَّةِ فَلَوْ كَانَ عَلِيٌّ سَابَّهُ لَسَبَّهُ يَوْمَئِذٍ وَهَذَا الْحَدِيثُ لَا نَعْلَمُهُ يُرْوَى بِهَذَا اللَّفْظِ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Hurairah (may Allah be well pleased with him) narrated that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: «The first thing for which a servant will be held accountable on the Day of Resurrection is his prayer. If it is sound, he will have succeeded and prospered. If it is deficient, he will have failed and lost. If anything is deficient from his obligatory prayers, the Lord, Blessed and Exalted, will say: 'Look and see if My servant has any voluntary prayers to complete what was deficient from his obligatory prayers.' Then the rest of his deeds will be treated likewise.»
اردو ترجمہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے جس چیز کا حساب لیا جائے گا وہ اس کی نماز ہے۔ اگر یہ درست ہے، تو وہ کامیاب اور خوش قسمت ہوگا۔ اگر یہ ناقص ہے، تو وہ ناکام اور نقصان میں ہوگا۔ اگر اس کی فرض نمازوں میں کچھ کمی ہے، تو رب تبارک و تعالیٰ فرمائے گا: 'دیکھو کہ آیا میرے بندے کے پاس کوئی نفل نمازیں ہیں جو اس کی فرض نمازوں کی کمی کو پورا کریں۔' پھر اس کے باقی اعمال کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا۔»
