It was narrated that al-Bara' bin 'Azib said: Hadrat Abu Bakr bought a saddle from ‘Azib for thirteen dirhams, then Hadrat Abu Bakr said to 'Azib. Tell al-Bara to carry it to my house. He said: No, not until you tell us what happened when the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) went out and you were with him. Hadrat Abu Bakr said: We started our journey at the beginning of the night and we hastened for one day and one night, until it was midday. I looked into the distance to see whether there was anywhere to seek shade, and I saw a rock, so I went to it and it had a little shade. I smoothed the ground for the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and spread a garment of camel hair for him, and said: Lie down and rest, O Beloved Messenger of Allah. So he lay down, and I went out to see if I could spot anyone looking for us. Then I saw a shepherd and I said: Who do you belong to, O boy? He said: To a man of Quraish. He mentioned his name and I recognised it. I said: Is there any milk in your sheep? He said: Yes | said: Will you milk some for me? He said: Yes. I told him to do that, so he caught a sheep, then I told him to brush the dust from its teat, then to brush the dust off his hands. I had a small vessel with me on the neck of which was a cloth. He milked a little bit of milk for me and I poured it into the vessel until it cooled down. Then I came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). When I reached him, he had already woken up. I said: Drink, O Beloved Messenger of Allah. He drank until I was pleased, then I said: Is it time to move on? So we moved on and the people were coming after us but none of them caught up with us except Suraqah bin Malik bin Ju'shum, who was riding a horse of his, I said: O Beloved Messenger of Allah, someone has caught up with us. He said: `Do not be afraid, for Allah is with us.` When he got close to us, and there was no more between us and him then the length of a spear or two or three spears, I said: O Beloved Messenger of Allah, this pursuer has caught up with us, and I wept. He said: `Why are you weeping?` I said: I am not weeping for myself; rather I am weeping for you. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) prayed against him . Isra'eel said: al-Bara' was one of the Ansar from Banu Harithah.
اردو ترجمہ
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عازب سے تیرہ درہم میں ایک کاٹھی خریدی۔ حضرت ابو بکر نے عازب سے کہا: براء کو حکم دو کہ اسے میرے گھر تک پہنچا دیں۔ عازب نے کہا: نہیں، جب تک آپ ہمیں نہ بتائیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نکلے اور آپ ان کے ساتھ تھے تو کیا ہوا۔ حضرت ابو بکر نے فرمایا: ہم نکلے اور رات کے شروع میں سفر کیا، اور ایک دن اور ایک رات تیز چلتے رہے یہاں تک کہ دوپہر ہو گئی۔ میں نے نظر دوڑائی کہ کوئی سایہ نظر آئے جس میں پناہ لوں، تو مجھے ایک چٹان نظر آئی۔ میں اس کی طرف گیا تو اس کا تھوڑا سا سایہ باقی تھا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لیے جگہ ہموار کی اور ایک چمڑا بچھایا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آرام فرمائیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم لیٹ گئے۔ پھر میں باہر گیا دیکھنے کے لیے کہ کوئی تلاش کرنے والا تو نہیں۔ تو مجھے ایک چرواہا نظر آیا۔ میں نے کہا: اے لڑکے! تم کس کے ہو؟ اس نے کہا: قریش کے ایک شخص کا، اور اس کا نام لیا، میں نے اسے پہچان لیا۔ میں نے کہا: کیا تمہاری بکریوں میں دودھ ہے؟ کہا: ہاں۔ میں نے کہا: کیا تم میرے لیے دودھ نکالو گے؟ کہا: ہاں۔ میں نے اسے حکم دیا تو اس نے ایک بکری پکڑی، پھر میں نے حکم دیا کہ اس کے تھن سے مٹی جھاڑ دے، پھر اپنے ہاتھ جھاڑے۔ میرے پاس ایک چھوٹا برتن تھا جس کے منہ پر کپڑا بندھا تھا۔ اس نے میرے لیے تھوڑا دودھ نکالا، میں نے برتن پر پانی ڈالا یہاں تک کہ اس کا نیچے کا حصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہو چکے تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پی لیجیے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پیا یہاں تک کہ میں خوش ہوا۔ پھر میں نے عرض کیا: کیا روانگی کا وقت ہو گیا؟ ہم روانہ ہوئے اور لوگ ہمیں تلاش کر رہے تھے لیکن کوئی نہ پہنچا سوائے سراقہ بن مالک بن جعشم کے جو اپنے گھوڑے پر سوار تھا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تلاش کرنے والا ہم تک پہنچ گیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: {لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا} یہاں تک کہ جب وہ ہمارے قریب آ گیا اور ہمارے اور اس کے درمیان ایک یا دو یا تین نیزے کا فاصلہ رہ گیا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! تلاش کرنے والا پہنچ گیا، اور میں رو پڑا۔ فرمایا: تم کیوں روتے ہو؟ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میں اپنی جان پر نہیں روتا بلکہ آپ پر روتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے خلاف دعا فرمائی: اے اللہ! جیسے تو چاہے ہمیں اس سے بچا۔ تو اس کے گھوڑے کی ٹانگیں پیٹ تک سخت زمین میں دھنس گئیں۔ وہ گھوڑے سے کود گیا اور کہا: اے محمد! مجھے معلوم ہے کہ یہ آپ کا کام ہے، اللہ سے دعا کریں کہ مجھے اس حالت سے نجات دے۔ اللہ کی قسم! میں پیچھے آنے والوں کو گمراہ کر دوں گا۔ یہ میرا ترکش ہے، اس میں سے ایک تیر لے لیں، آپ میرے اونٹوں اور بکریوں کے پاس سے گزریں گے فلاں جگہ پر، ان میں سے اپنی ضرورت لے لیں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے ان کی ضرورت نہیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے دعا فرمائی تو اس کا گھوڑا چھوٹ گیا۔ وہ اپنے ساتھیوں کی طرف واپس گیا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھے اور میں آپ کے ساتھ تھا یہاں تک کہ ہم مدینہ پہنچے۔ لوگ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے استقبال کے لیے نکلے، راستوں اور چھتوں پر آ گئے، خادم اور بچے راستے میں دوڑ رہے تھے کہہ رہے تھے: اللہ اکبر! رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم آ گئے۔ لوگ جھگڑنے لگے کہ آپ کس کے ہاں ٹھہریں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج رات میں بنی نجار کے ہاں ٹھہروں گا جو عبدالمطلب کے ماموں ہیں تاکہ ان کی عزت افزائی کروں۔ جب صبح ہوئی تو جہاں حکم ہوا وہاں تشریف لے گئے۔ حضرت براء بن عازب نے کہا: ہمارے پاس مہاجرین میں سب سے پہلے حضرت مصعب بن عمیر بنی عبدالدار کے بھائی آئے، پھر حضرت ابن ام مکتوم اعمیٰ بنی فہر کے بھائی آئے، پھر حضرت عمر بن خطاب بیس سواروں کے ساتھ آئے۔ ہم نے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا: میرے پیچھے آ رہے ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابو بکر آپ کے ساتھ تشریف لائے۔ براء نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نہیں آئے یہاں تک کہ میں نے مفصل کی سورتیں حفظ کر لیں۔ اسرائیل نے کہا: براء انصار میں سے بنی حارثہ کے تھے۔
It was narrated that al-Bara' bin 'Azib said: Hadrat Abu Bakr bought a saddle from ‘Azib for thirteen dirhams, then Hadrat Abu Bakr said to 'Azib. Tell al-Bara to carry it to my house. He said: No, not until you tell us what happened when the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) went out and you were with him. Hadrat Abu Bakr said: We started our journey at the beginning of the night and we hastened for one day and one night, until it was midday. I looked into the distance to see whether there was anywhere to seek shade, and I saw a rock, so I went to it and it had a little shade. I smoothed the ground for the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and spread a garment of camel hair for him, and said: Lie down and rest, O Beloved Messenger of Allah. So he lay down, and I went out to see if I could spot anyone looking for us. Then I saw a shepherd and I said: Who do you belong to, O boy? He said: To a man of Quraish. He mentioned his name and I recognised it. I said: Is there any milk in your sheep? He said: Yes | said: Will you milk some for me? He said: Yes. I told him to do that, so he caught a sheep, then I told him to brush the dust from its teat, then to brush the dust off his hands. I had a small vessel with me on the neck of which was a cloth. He milked a little bit of milk for me and I poured it into the vessel until it cooled down. Then I came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). When I reached him, he had already woken up. I said: Drink, O Beloved Messenger of Allah. He drank until I was pleased, then I said: Is it time to move on? So we moved on and the people were coming after us but none of them caught up with us except Suraqah bin Malik bin Ju'shum, who was riding a horse of his, I said: O Beloved Messenger of Allah, someone has caught up with us. He said: `Do not be afraid, for Allah is with us.` When he got close to us, and there was no more between us and him then the length of a spear or two or three spears, I said: O Beloved Messenger of Allah, this pursuer has caught up with us, and I wept. He said: `Why are you weeping?` I said: I am not weeping for myself; rather I am weeping for you. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) prayed against him . Isra'eel said: al-Bara' was one of the Ansar from Banu Harithah.
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عازب سے تیرہ درہم میں ایک کاٹھی خریدی۔ حضرت ابو بکر نے عازب سے کہا: براء کو حکم دو کہ اسے میرے گھر تک پہنچا دیں۔ عازب نے کہا: نہیں، جب تک آپ ہمیں نہ بتائیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نکلے اور آپ ان کے ساتھ تھے تو کیا ہوا۔ حضرت ابو بکر نے فرمایا: ہم نکلے اور رات کے شروع میں سفر کیا، اور ایک دن اور ایک رات تیز چلتے رہے یہاں تک کہ دوپہر ہو گئی۔ میں نے نظر دوڑائی کہ کوئی سایہ نظر آئے جس میں پناہ لوں، تو مجھے ایک چٹان نظر آئی۔ میں اس کی طرف گیا تو اس کا تھوڑا سا سایہ باقی تھا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لیے جگہ ہموار کی اور ایک چمڑا بچھایا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آرام فرمائیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم لیٹ گئے۔ پھر میں باہر گیا دیکھنے کے لیے کہ کوئی تلاش کرنے والا تو نہیں۔ تو مجھے ایک چرواہا نظر آیا۔ میں نے کہا: اے لڑکے! تم کس کے ہو؟ اس نے کہا: قریش کے ایک شخص کا، اور اس کا نام لیا، میں نے اسے پہچان لیا۔ میں نے کہا: کیا تمہاری بکریوں میں دودھ ہے؟ کہا: ہاں۔ میں نے کہا: کیا تم میرے لیے دودھ نکالو گے؟ کہا: ہاں۔ میں نے اسے حکم دیا تو اس نے ایک بکری پکڑی، پھر میں نے حکم دیا کہ اس کے تھن سے مٹی جھاڑ دے، پھر اپنے ہاتھ جھاڑے۔ میرے پاس ایک چھوٹا برتن تھا جس کے منہ پر کپڑا بندھا تھا۔ اس نے میرے لیے تھوڑا دودھ نکالا، میں نے برتن پر پانی ڈالا یہاں تک کہ اس کا نیچے کا حصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہو چکے تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پی لیجیے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پیا یہاں تک کہ میں خوش ہوا۔ پھر میں نے عرض کیا: کیا روانگی کا وقت ہو گیا؟ ہم روانہ ہوئے اور لوگ ہمیں تلاش کر رہے تھے لیکن کوئی نہ پہنچا سوائے سراقہ بن مالک بن جعشم کے جو اپنے گھوڑے پر سوار تھا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تلاش کرنے والا ہم تک پہنچ گیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: {لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا} یہاں تک کہ جب وہ ہمارے قریب آ گیا اور ہمارے اور اس کے درمیان ایک یا دو یا تین نیزے کا فاصلہ رہ گیا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! تلاش کرنے والا پہنچ گیا، اور میں رو پڑا۔ فرمایا: تم کیوں روتے ہو؟ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میں اپنی جان پر نہیں روتا بلکہ آپ پر روتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے خلاف دعا فرمائی: اے اللہ! جیسے تو چاہے ہمیں اس سے بچا۔ تو اس کے گھوڑے کی ٹانگیں پیٹ تک سخت زمین میں دھنس گئیں۔ وہ گھوڑے سے کود گیا اور کہا: اے محمد! مجھے معلوم ہے کہ یہ آپ کا کام ہے، اللہ سے دعا کریں کہ مجھے اس حالت سے نجات دے۔ اللہ کی قسم! میں پیچھے آنے والوں کو گمراہ کر دوں گا۔ یہ میرا ترکش ہے، اس میں سے ایک تیر لے لیں، آپ میرے اونٹوں اور بکریوں کے پاس سے گزریں گے فلاں جگہ پر، ان میں سے اپنی ضرورت لے لیں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے ان کی ضرورت نہیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے دعا فرمائی تو اس کا گھوڑا چھوٹ گیا۔ وہ اپنے ساتھیوں کی طرف واپس گیا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھے اور میں آپ کے ساتھ تھا یہاں تک کہ ہم مدینہ پہنچے۔ لوگ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے استقبال کے لیے نکلے، راستوں اور چھتوں پر آ گئے، خادم اور بچے راستے میں دوڑ رہے تھے کہہ رہے تھے: اللہ اکبر! رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم آ گئے۔ لوگ جھگڑنے لگے کہ آپ کس کے ہاں ٹھہریں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج رات میں بنی نجار کے ہاں ٹھہروں گا جو عبدالمطلب کے ماموں ہیں تاکہ ان کی عزت افزائی کروں۔ جب صبح ہوئی تو جہاں حکم ہوا وہاں تشریف لے گئے۔ حضرت براء بن عازب نے کہا: ہمارے پاس مہاجرین میں سب سے پہلے حضرت مصعب بن عمیر بنی عبدالدار کے بھائی آئے، پھر حضرت ابن ام مکتوم اعمیٰ بنی فہر کے بھائی آئے، پھر حضرت عمر بن خطاب بیس سواروں کے ساتھ آئے۔ ہم نے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا: میرے پیچھے آ رہے ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابو بکر آپ کے ساتھ تشریف لائے۔ براء نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نہیں آئے یہاں تک کہ میں نے مفصل کی سورتیں حفظ کر لیں۔ اسرائیل نے کہا: براء انصار میں سے بنی حارثہ کے تھے۔