عربی (اصل)
92/124(حسن صحيح)عن أبي هريرة قال: قال رجل يا رسول الله! إن لي جاراً يؤذيني، فقال:"انطلق. فأخرج متاعك إلى الطريق". فانطلق فأخرج متاعه، فاجتمع الناس عليه، فقالوا: ما شأنك؟ قال: لي جار يؤذيني، فذكرت للنبي صلى الله عليه وسلم فقال:" انطلق. فاخرج متاعك إلى الطريق" فجعلوا يقولون: اللهم! العنه، اللهمّ! أخزه، فبلغه، فأتاه فقال: ارجع إلى منزلك، فوالله! لا أوذيك.
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah reported: A man said, 'O Messenger of Allah, I have a neighbor who harms me.' He said, 'Go and put your belongings out on the road.' So he went and put his belongings out. People gathered around him and asked, 'What is the matter?' He said, 'I have a neighbor who harms me. I mentioned it to the Prophet, peace be upon him, and he said: "Go and put your belongings out on the road."' People began saying, 'O Allah, curse him! O Allah, disgrace him!' When the news reached the neighbor, he came to him and said, 'Go back to your house. By Allah, I will never harm you again.'
اردو ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! میرا ایک ہمسایہ ہے جو مجھے دکھ پہنچاتا ہے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جاؤ، اپنا سامان گھر سے نکال کر راستے پر رکھ دو۔“وہ گیا اور اس نے اپنا سامان نکال کر راستہ میں رکھ دیا۔ لوگ اس پر جمع ہو گئے اور پوچھنے لگے: آپ کو کیا ہوا۔ اس نے کہا: میرا ہمسایہ مجھے دکھ پہنچاتا ہے۔ جب میں نے یہ نبیصلی اللہ علیہ وسلمسے بیان کیا تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جاؤ، اور اپنا سامان نکال کر راستے پر رکھ دو۔“تو سب لوگ کہنے لگے: اے اللہ! اس پر لعنت کر، اے اللہ اس کو ذلیل کر۔ جب یہ بات ہمسایہ تک پہنچی وہ اس کے پاس آیا اور اس نے کہا: اپنے گھر واپس چلے جاؤ۔ اللہ کی قسم اب میں کبھی تمہیں دکھ نہ پہنچاؤں گا۔[صحيح الادب المفرد/حدیث: 92]
