عربی (اصل)
64/87 عن جبير بن نفير قال: جلسنا إلى المقداد بن الأسود يوماً، فمر به رجل، فقال: طوبى لهاتين العينين اللتين رأتا رسول الله صلى الله عليه وسلم، والله! لوددنا أنا رأينا ما رأيت، وشهدنا ما شهدت، فاستغضب، فجعلت أعجب، ما قال إلا خيراً! ثم أقبل عليه فقال:"ما يحمل الرجل على أن يتمنى محضراً غيبه الله عنه؟ لا يدرى لو شهده كيف يكون فيه؟ والله! لقد حضر رسول الله صلى الله عليه وسلم أقوام كبهم الله على مناخرهم في جهنم؛ لم يجيبوه ولم يصدقوه! أولا تحمدون الله عز وجل إذ أخرجكم لا تعرفون إلا ربكم، فتصدقون بما جاء به نبيكم صلى الله عليه وسلم، قد كفيتم البلاء بغيركم. والله لقد بعث النبي صلى الله عليه وسلم على أشد حال بعث عليها نبي قط، في فترة وجاهلية، ما يرون أن دينا أفضل من عبادة الأوثان! فجاء بفرقان فرق به بين الحق والباطل، وفرق به بين الوالد وولده، حتى إن كان الرجل ليرى والده أو ولده أو أخاه كافراً، وقد فتح الله قفل قلبه بالإيمان ويعلم أنه إن هلك دخل النار، فلا تقر عينه، وهو يعلم أن حبيبه في النار، وأنها للتي قال: الله عز وجل: {والذين يقولون ربنا هب لنا من أزواجنا وذرياتنا قرة أعين}[الفرقان: 74].
انگریزی ترجمہ
Jubayr ibn Nufayr reported: We were sitting with al-Miqdam ibn al-Aswad one day when a man passed by him and said, 'Blessed are those two eyes that saw the Messenger of Allah, peace be upon him. By Allah, we wish we had seen what you saw and witnessed what you witnessed.' Al-Miqdam became angry, and I was surprised because the man had only said something good. Then he turned to him and said: 'What makes a person wish for something that Allah has kept hidden from him? He does not know how he would have been had he been present! By Allah, there were people who witnessed the Messenger of Allah, peace be upon him, and Allah threw them on their faces into Hell because they did not accept him or believe in him. Do you not praise Allah, Mighty and Majestic, that He brought you out knowing none but your Lord, believing in what your Prophet, peace be upon him, brought? You have been spared the trial that others faced. By Allah, the Prophet, peace be upon him, was sent at the most difficult time any prophet was ever sent — during a gap in prophethood and in the midst of ignorance, when people considered no religion better than idol worship. He came with a criterion that distinguished between truth and falsehood, and separated father from son, so that a man would see his father, or son, or brother as a disbeliever, while Allah had unlocked his own heart with faith. He would know that if his relative perished, he would enter the Fire, and his eyes could not find comfort knowing that his beloved was in the Fire. This is what Allah, Mighty and Majestic, referred to: "And those who say: Our Lord, grant us from our spouses and offspring comfort to our eyes." [25:74]'
اردو ترجمہ
جبیر بن نفیر سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ ایک دن ہم مقداد بن اسود کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ تو ایک شخص ان کے پاس سے گزرا اور اس نے کہا: کیا خوش قسمت اور مبارک ہیں یہ دونوں آنکھیں جنہوں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو دیکھا ہے۔ اللہ کی قسم ہمارا دل چاہتا ہے کہ کاش ہم بھی وہ دیکھتے جو آپ نے دیکھا اور ان (معرکوں) میں شریک ہوتے جن میں آپ شریک ہوئے ہیں۔ اس پر سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ غضبناک ہوئے۔ تو مجھے تعجب ہوا کہ اس نے تو اچھی بات ہی کہی ہے (یہ غصے کیوں ہو رہے ہیں)۔ اس کے بعد مقداد رضی اللہ عنہ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے کہا: آدمی ایسی چیزوں کی تمنا کیوں کرتا ہے کہ جن چیزوں سے اللہ نے اس کو غائب رکھا۔ اسے نہیں معلوم کہ اگر وہ وہاں ہوتا تو ا س کا کیا کردار ہوتا؟ اللہ کی قسم رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو ایسے لوگوں نے بھی دیکھا جنہیں اللہ نے منہ کے بل جہنم میں ڈال دیا۔ کیونکہ انہوں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی بات نہیں مانی، ان کی تصدیق نہیں کی۔ کیا تم اللہ عزوجل کی اس بات پر حمد نہیں کرتے کہ جب اس نے تمہیں دنیا میں پیدا کیا تو تم اپنے رب کے سوا کسی کو جانتے ہی نہ تھے۔ اور تم اس شریعت کی تصدیق کرتے ہو جو تمہارے نبیصلی اللہ علیہ وسلملائے ہیں۔ (اچھا ہوا) تم ان آزمائشوں سے بچ گئے ہو جن سے صحابہ گزرے۔ اللہ کی قسم نبیصلی اللہ علیہ وسلمبہت ہی سخت حالات میں جاہلیت کے زمانے میں اور نبوت کے وقفے کے زمانے میں مبعوث ہوئے تھے۔ کوئی نبی اتنے سخت حالات میں مبعوث نہیں کیا گیا تھا۔ اس زمانے میں ان لوگوں کے نزدیک کوئی دین بت پرستی سے زیادہ بہتر نہیں تھا۔ تو نبیصلی اللہ علیہ وسلمایسے کلام کو لے آئے جو فرقان تھا جس نے حق و باطل میں فرق کیا۔ اور اس کے ذریعے سے باپ اور بیٹے کے درمیان فرق ڈال دیا (کہ ایک کافر ہوتا اور ایک مسلمان)۔ یہاں تک کہ اگر ایک آدمی اپنے باپ کو، اپنے بیٹے کو اور اپنے بھائی کو حالت کفر میں دیکھتا تھا۔ اور اللہ نے اس کے اپنے دل کا قفل ایمان کی چابی سے کھول دیا تھا۔ اور وہ جانتا تھا کہ میرا باپ، بھائی، بیٹا جو کافر تھا اگر وہ اسی حالت میں مر گیا تو جہنم میں داخل ہو گا تو اس کی آنکھ ٹھنڈی نہیں ہو تی تھی اور وہ جانتا تھا کہ اس کا عزیز جہنم میں گیا۔ اور یہ آنکھوں کی ٹھنڈک تو اسی چیز سے ہوتی ہے جس کے متعلق اللہ عزوجل نے فرمایا: «وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ»”اور وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔“(مطلب یہ کہ وہ شریعت پر عمل کریں کیونکہ مومن کی آنکھ، اولاد اور بیوی سے تب ہی ٹھنڈی ہو گی جب وہ اللہ کے عبادت گزار ہوں۔)[صحيح الادب المفرد/حدیث: 64]
