عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَسَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، فَسَأَلَتْهُ عَنِ اسْمِ أُخْتٍ لَهُ عِنْدَهُ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: اسْمُهَا بَرَّةُ، قَالَتْ: غَيِّرِ اسْمَهَا، فَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَكَحَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ وَاسْمُهَا بَرَّةُ، فَغَيَّرَ اسْمَهَا إِلَى زَيْنَبَ، وَدَخَلَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ حِينَ تَزَوَّجَهَا، وَاسْمِي بَرَّةُ، فَسَمِعَهَا تَدْعُونِي: بَرَّةَ، فَقَالَ: لاَ تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ أَعْلَمُ بِالْبَرَّةِ مِنْكُنَّ وَالْفَاجِرَةِ، سَمِّيهَا زَيْنَبَ، فَقَالَتْ: فَهِيَ زَيْنَبُ، فَقُلْتُ لَهَا: سَمِّي، فَقَالَتْ: غَيِّرْهُ إِلَى مَا غَيَّرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم، فَسَمِّهَا زَيْنَبَ.
انگریزی ترجمہ
Muhammad ibn 'Ata' related that he visited Hadrat Zaynab bint Salama and she asked him about the name of one of his sisters. He reports:"I said, 'Her name is Barra.' She said, 'Change her name. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) married Hadrat Zaynab bint Jahsh. Her name was Barra and he changed it to Hadrat Zaynab. I visited Hadrat Umm Salama when she married him and my name was Barra. He heard her call me Barra and said, 'Do not adorn yourselves. Allah is the One who knows those who are pious (barra) among you and those who are deviant. Call her Hadrat Zaynab.' Hadrat Umm Salama said, 'She is Hadrat Zaynab.' I said to Hadrat Zaynab, 'Give her a name.' Hadrat Zaynab said, 'Change it to what the Beloved Messenger of Allah changed it.'" So he called her Hadrat Zaynab.
اردو ترجمہ
محمد بن عطاء فرماتے ہیں کہ وہ حضرت زینب بنت سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گئے اور انہوں نے ان کی ایک بہن کا نام پوچھا۔ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا اس کا نام بَرّہ ہے۔ انہوں نے فرمایا: اس کا نام بدل دو۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت اُمّ المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح فرمایا۔ ان کا نام بَرّہ تھا تو آپ نے ان کا نام بدل کر زینب رکھ دیا۔ پھر آپ حضرت اُمّ المؤمنین جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس تشریف لائے، ان کا نام بھی بَرّہ تھا، آپ نے ان کا نام بدل کر جویریہ رکھ دیا۔ آپ کو ناپسند تھا کہ کہا جائے: وہ بَرّہ (نیک) کے پاس سے نکلا۔
