عربی (اصل)
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جَمِيعٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: لَمْ يَكُنْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم مُتَحَزِّقِينَ، وَلاَ مُتَمَاوِتِينَ، وَكَانُوا يَتَنَاشَدُونَ الشِّعْرَ فِي مَجَالِسِهِمْ، وَيَذْكُرُونَ أَمْرَ جَاهِلِيَّتِهِمْ، فَإِذَا أُرِيدَ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَلَى شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ اللهِ، دَارَتْ حَمَالِيقُ عَيْنَيْهِ كَأَنَّهُ مَجْنُونٌ.
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Salama ibn 'Abdu'r-Rahman said, "The Companions of the Messenger of Allah were neither niggardly nor weak (in worship). They used to recite poems to one another in their gatherings and they mentioned matters of the Jahiliyya. But when one of them was asked about something concerning Allah, his eyes went around as if he were mad."
اردو ترجمہ
حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن فرماتے ہیں: 'رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نہ بخیل تھے نہ عبادت میں کمزور۔ وہ اپنی مجالس میں ایک دوسرے کو اشعار سناتے تھے اور زمانۂ جاہلیت کے واقعات بیان کرتے تھے۔ لیکن جب ان سے اللہ تعالیٰ سے متعلق کوئی بات پوچھی جاتی تو ان کی آنکھیں ایسے گھومتی تھیں جیسے وہ دیوانے ہوں (یعنی خشیتِ الٰہی سے ان پر رقت طاری ہو جاتی)۔'
