عربی (اصل)
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ: اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ: ائْذَنُوا لَهُ، بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ، فَلَمَّا دَخَلَ أَلاَنَ لَهُ الْكَلاَمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، قُلْتَ الَّذِي قُلْتَ، ثُمَّ أَلَنْتَ الْكَلاَمَ، قَالَ: أَيْ عَائِشَةُ، إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْ تَرَكَهُ النَّاسُ، أَوْ وَدَعَهُ النَّاسُ، اتِّقَاءَ فُحْشِهِ.
انگریزی ترجمہ
'Urwa ibn az-Zubayr heard Hadrat 'A'isha say, "A man asked permission to visit the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and the Prophet said, 'Give him permission. He is an evil brother of his tribe.' When he entered he spoke kindly to him. I said, 'Beloved Messenger of Allah, you said what you said and then you spoke kindly to him.' He replied, 'Yes, Hadrat 'A'isha. The worst of people is the one people avoid due to his harsh nature.'"
اردو ترجمہ
حضرت عروہ بن حضرت زبیر فرماتے ہیں کہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا: ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے ملنے کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا: اسے اجازت دو، وہ اپنے قبیلے کا برا بھائی ہے۔ جب وہ آیا تو آپ نے اس سے نرمی سے بات کی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے جو فرمایا تھا اور پھر اس سے نرمی سے بات کی؟ آپ نے ارشاد فرمایا: سب سے برے لوگوں میں سے وہ ہے جسے لوگ اس کی بدزبانی کے ڈر سے چھوڑ دیں۔
