عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ، قَالَتْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلَ عَلَىَّ صَبِيحَةَ بُنِيَ بِي فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كَمَجْلِسِكَ مِنِّي فَجَعَلَتْ جُوَيْرِيَاتٌ يَضْرِبْنَ بِدُفٍّ لَهُنَّ وَيَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِي يَوْمَ بَدْرٍ إِلَى أَنْ قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ وَفِينَا نَبِيُّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ . فَقَالَ " دَعِي هَذِهِ وَقُولِي الَّذِي كُنْتِ تَقُولِينَ " .
انگریزی ترجمہ
Al-Ruhayyi’, daughter of Mu’awwidh b. ‘Afra’, said :The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) came and visited me in the morning when I had been conducted to my husband, and sat on my bedding as you are sitting beside me. Some little girls of ours began to play the tambourine and eulogise those of my ancestors who were killed in the battle of Badr, and then one of them said: And among us is a the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) who knows what will happen tomorrow. He said : Stop this and say what you were saying
اردو ترجمہ
حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس اس صبح آئے، جس رات میرا شب زفاف ہوا تھا تو آپ میرے بستر پر ایسے بیٹھ گئے جیسے تم ( خالد بن ذکوان ) بیٹھے ہو، پھر ( انصار کی ) کچھ بچیاں اپنے دف بجانے لگیں اور اپنے غزوہ بدر کی شہید ہونے والے آباء و اجداد کا اوصاف ذکر کرنے لگیں یہاں تک کہ ان میں سے ایک نے عرض کیا: اور ہمارے بیچ ایک ایسا نبی ہے جو کل ہونے والی باتوں کو بھی جانتا ہے، تو آپ نے ارشاد فرمایا: اسے چھوڑ دو اور وہی کہو جو تم پہلے کہہ رہی تھیں ۔
