عربی (اصل)
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ كُنَّا مَعَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَثَمَّ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ فَحَدَّثَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ " . أَوْ قَالَ " الْحَيَاءُ كُلُّهُ خَيْرٌ " . فَقَالَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ إِنَّا نَجِدُ فِي بَعْضِ الْكُتُبِ أَنَّ مِنْهُ سَكِينَةً وَوَقَارًا وَمِنْهُ ضَعْفًا . فَأَعَادَ عِمْرَانُ الْحَدِيثَ وَأَعَادَ بُشَيْرٌ الْكَلاَمَ قَالَ فَغَضِبَ عِمْرَانُ حَتَّى احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ وَقَالَ أَلاَ أَرَانِي أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتُحَدِّثُنِي عَنْ كُتُبِكَ . قَالَ قُلْنَا يَا أَبَا نُجَيْدٍ إِيهٍ إِيهٍ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Qatadah narrates: We were with Hadrat Imran ibn Husayn (may Allah be well pleased with them both), and Bushair ibn Ka'b was also present. Hadrat Imran (may Allah be well pleased with them both) narrated that day that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Modesty is entirely good — or he stated: Modesty is all good. Bushair ibn Ka'b said: We find in some books or in wisdom that some of it is tranquillity and dignity for the sake of Allah, and some of it is weakness. Hadrat Imran (may Allah be well pleased with them both) became very angry, so much so that his eyes turned red, and he said: Do you not see that I am narrating to you the hadith of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and you speak against it?
اردو ترجمہ
حضرت ابو قتادہ فرماتے ہیں: ہم حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس تھے اور بشیر بن کعب بھی وہاں تھے۔ حضرت عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اس دن حدیث بیان فرمائی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حیاء سراسر خیر ہے — یا فرمایا: حیاء سب کی سب خیر ہے۔ بشیر بن کعب نے کہا: ہم بعض کتابوں یا حکمت میں پاتے ہیں کہ اس میں سے کچھ اللہ کے لیے سکینت و وقار ہے اور کچھ کمزوری ہے۔ حضرت عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو بہت غصہ آیا یہاں تک کہ ان کی آنکھیں سرخ ہو گئیں اور فرمایا: کیا تم دیکھتے نہیں کہ میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تم اس کے خلاف بات کرتے ہو؟
