عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَسَرَتِ الرُّبَيِّعُ أُخْتُ أَنَسِ بْنِ النَّضْرِ ثَنِيَّةَ امْرَأَةٍ فَأَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَضَى بِكِتَابِ اللَّهِ الْقِصَاصَ فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لاَ تُكْسَرُ ثَنِيَّتُهَا الْيَوْمَ . قَالَ " يَا أَنَسُ كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ " . فَرَضُوا بِأَرْشٍ أَخَذُوهُ فَعَجِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ قِيلَ لَهُ كَيْفَ يُقْتَصُّ مِنَ السِّنِّ قَالَ تُبْرَدُ .
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Anas bin Malik that Al-Rubayyi', sister of Anas b. al-Nadr, broke (one of) the front teeth of a woman. They came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). He made a decision in accordance with the Book of Allah that retaliation should be taken. Anas b. al-Nadr said: I swear by Him who has sent you the truth, her front tooth will not be broken today. He replied: Hadrat Anas ! Allah's decree is retaliation. But the people were agreeable to accepting a fine, so the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Among Allah's servants there are those who, if they adjured Allah, He (Allah) would consent to it. Abu Dawud said: I heard Ahmad b. Hanbal say: He was asked : How retaliation of a tooth is taken ? He said: It is broken with a file
اردو ترجمہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ انس بن نضر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بہن ربیع نے ایک عورت کا سامنے کا دانت توڑ دیا، تو وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، آپ نے اللہ کی کتاب کے مطابق قصاص کا فیصلہ کیا، تو انس بن نضر نے عرض کیا، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! اس کا دانت تو آج نہیں توڑا جائے گا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے انس! کتاب اللہ میں قصاص کا حکم ہے پھر وہ لوگ دیت پر راضی ہو گئے جسے انہوں نے لے لیا، اس پر اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو تعجب ہوا اور آپ نے ارشاد فرمایا: اللہ کے بعض بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کی قسم کھا لیں تو وہ ان کی قسم پوری کر دیتا ہے ۱؎ ۔ حضرت ابوداؤد فرماتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا ان سے پوچھا گیا تھا کہ دانت کا قصاص کیسے لیا جائے؟ تو انہوں نے عرض کیا: وہ ریتی سے رگڑا جائے۔
