عربی (اصل)
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّمَّارُ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ طَلْحَةَ، حَدَّثَهُمْ قَالَ حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قِصَّةِ حَمَلِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ فَأَسْقَطَتْ غُلاَمًا قَدْ نَبَتَ شَعْرُهُ مَيِّتًا وَمَاتَتِ الْمَرْأَةُ فَقَضَى عَلَى الْعَاقِلَةِ الدِّيَةَ . فَقَالَ عَمُّهَا إِنَّهَا قَدْ أَسْقَطَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ غُلاَمًا قَدْ نَبَتَ شَعْرُهُ . فَقَالَ أَبُو الْقَاتِلَةِ إِنَّهُ كَاذِبٌ إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا اسْتَهَلَّ وَلاَ شَرِبَ وَلاَ أَكَلَ فَمِثْلُهُ يُطَلُّ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَسَجْعَ الْجَاهِلِيَّةِ وَكَهَانَتَهَا أَدِّ فِي الصَّبِيِّ غُرَّةً " . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَانَ اسْمُ إِحْدَاهُمَا مُلَيْكَةَ وَالأُخْرَى أُمَّ غُطَيْفٍ .
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Abdullah ibn Abbas that About the story of Haml ibn Malik, Hadrat Ibn Abbas said: She aborted a child who had grown hair and was dead, and the woman also died. He (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) gave judgment that the blood-wit was to be paid by the woman's relatives on the father's side. Her uncle said: Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! She has aborted a child who had grown hair. The father of the woman who had slain said: He is a liar: I swear by Allah, he did not raise his voice, or drink or eat. No compensation is to be paid for an offence like this. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: is it a rhymed prose of pre-Islamic Arabia and its soothsaying? Pay a male or female slave of the best quality in compensation for the child. Hadrat Ibn 'Abbas said: The name of one of them was Mulaikah, and the name of the other was Umm Ghutaif
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے حمل بن مالک کے قصے میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں تو اس نے بچہ کو جسے بال اگے ہوئے تھے ساقط کر دیا، وہ مرا ہوا تھا اور عورت بھی مر گئی، تو آپ نے وارثوں پر دیت کا فیصلہ کیا، اس پر اس کے چچا نے کہا: اللہ کے نبی! اس نے تو ایک ایسا بچہ ساقط کیا ہے جس کے بال اگ آئے تھے، تو قاتل عورت کے باپ نے کہا: یہ جھوٹا ہے، اللہ کی قسم! نہ تو وہ چیخا، نہ پیا، اور نہ کھایا، اس جیسے کا خون تو معاف ( رائیگاں ) قرار دے دیا جاتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا جاہلیت جیسی مسجع عبارت بولتے ہو جیسے کاہن بولتے ہیں، بچے کی دیت ایک غلام یا لونڈی کی دینی ہو گی ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں: ان میں سے ایک کا نام ملیکہ اور دوسری کا ام غطیف تھا۔
