عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَهَنَّادٌ، - الْمَعْنَى - قَالَ مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا فُرَاتٌ الْقَزَّازُ، عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، - وَقَالَ هَنَّادٌ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، - عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ، قَالَ كُنَّا قُعُودًا نَتَحَدَّثُ فِي ظِلِّ غُرْفَةٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْنَا السَّاعَةَ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَنْ تَكُونَ - أَوْ لَنْ تَقُومَ - السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ قَبْلَهَا عَشْرُ آيَاتٍ طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَخُرُوجُ الدَّابَّةِ وَخُرُوجُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَالدَّجَّالُ وَعِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَالدُّخَانُ وَثَلاَثُ خُسُوفٍ خَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَآخِرُ ذَلِكَ تَخْرُجُ نَارٌ مِنَ الْيَمَنِ مِنْ قَعْرِ عَدَنَ تَسُوقُ النَّاسَ إِلَى الْمَحْشَرِ " .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Hudhaifah b. Asid al-Ansari said :We were sitting in the shade of the chamber of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) discussing (something) and when we mentioned the last hour, our voices rose high. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: The last hour will not come or happen until there appear ten signs before it : the rising of the sun in its place of setting, the coming forth of the beast, the coming forth of Gog and Magog, the Dajjal (Antichrist), (the descent of) Jesus (upon him be peace) son of Mary, the smoke, and three collapses of the earth: one in the west, one in the east, and one in the Arabian Peninsula. The last of that will be the emergence of a fire from Yemen, from the lowest part of Aden, and drive mankind to their place of assembly
اردو ترجمہ
حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے کمرے کے زیر سایہ بیٹھے باتیں کر رہے تھے، ہم نے قیامت کا ذکر کیا تو ہماری آوازیں بلند ہو گئیں تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت اس وقت تک نہیں ہو گی، یا قائم نہیں ہو گی جب تک کہ اس سے پہلے دس نشانیاں ظاہر نہ ہو جائیں: سورج کا پچھم سے طلوع ہونا، دابہ ( چوپایہ ) کا ظہور، یاجوج و ماجوج کا خروج، ظہور دجال، ظہور عیسیٰ بن مریم، ظہور دخان ( دھواں ) اور تین جگہوں: مغرب، مشرق اور جزیرہ عرب میں خسف ( دھنسنا ) اور سب سے آخر میں یمن کی طرف سے عدن کے گہرائی میں سے ایک آگ ظاہر ہو گی وہ ہانک کر لوگوں کو محشر کی طرف لے جائے گی ۔
