عربی (اصل)
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَوْ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَمَّا نَزَلَتِ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ { وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلاَ يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ } قَالَ مُشْرِكُو أَهْلِ مَكَّةَ قَدْ قَتَلْنَا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ وَدَعَوْنَا مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَأَتَيْنَا الْفَوَاحِشَ . فَأَنْزَلَ اللَّهُ { إِلاَّ مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلاً صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ } فَهَذِهِ لأُولَئِكَ قَالَ وَأَمَّا الَّتِي فِي النِّسَاءِ { وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ } الآيَةُ قَالَ الرَّجُلُ إِذَا عَرَفَ شَرَائِعَ الإِسْلاَمِ ثُمَّ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ لاَ تَوْبَةَ لَهُ . فَذَكَرْتُ هَذَا لِمُجَاهِدٍ فَقَالَ إِلاَّ مَنْ نَدِمَ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Sa'id ibn Jubayr (upon him be mercy) narrates: I asked Hadrat Abdullah ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both), and he said: When the verse of Surat al-Furqan 'And those who do not invoke any other deity alongside Allah' was revealed, the polytheists of Makkah said: We have killed souls that Allah made sacred, we have invoked other gods alongside Allah, and we have committed shameful deeds (so what about us?). Then Allah revealed: 'Except those who repent, believe and do righteous deeds — for them Allah will change their evil deeds into good deeds' (al-Furqan: 70). This is for those people (who repent from disbelief). As for the verse of Surat al-Nisa, 'And whoever kills a believer intentionally, his recompense is Hell', he said: This concerns the man who knows the injunctions of Islam and then deliberately kills a believer; his recompense is Hell, and (the certainty of) his repentance being accepted is not there. Sa'id ibn Jubayr (upon him be mercy) said: I mentioned this to Mujahid (upon him be mercy), and he said: Except for the one who feels genuine remorse (whose repentance will be accepted).
اردو ترجمہ
حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: جب سورۃ الفرقان کی آیت «وَالَّذِینَ لَا یَدۡعُونَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ» نازل ہوئی تو مشرکینِ مکہ نے کہا: ہم نے ان جانوں کو قتل کیا ہے جنہیں اللہ نے حرام کیا ہے، اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کو پکارا ہے اور بے حیائی کے کام کیے ہیں (تو ہمارا کیا ہو گا)۔ تو اللہ نے نازل فرمایا: «اِلَّا مَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِمۡ حَسَنٰتٍ» (مگر جنہوں نے توبہ کی اور ایمان لائے اور نیک عمل کیے تو ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ نیکیوں میں بدل دے گا)۔ یہ ان لوگوں کے لیے ہے (جو کفر سے توبہ کریں)۔ رہی سورۃ النساء کی آیت «وَمَنۡ یَّقۡتُلۡ مُؤۡمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ» تو یہ اس شخص کے بارے میں ہے جو اسلام کے احکام جان لے پھر بھی جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کر دے، اس کی سزا جہنم ہے اور اس کی توبہ (قبول ہونے کا اطمینان) نہیں ہے۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں: میں نے یہ بات مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کو بتائی تو انہوں نے فرمایا: مگر جس نے ندامت (سچے دل سے توبہ) کی (تو اس کی توبہ قبول ہو گی)۔
