عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ السَّبَّاقِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ، زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ كَانَ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِيَ اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَلْقَنِي " . ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جَرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ بِسَاطٍ لَنَا فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً فَنَضَحَ بِهِ مَكَانَهُ فَلَمَّا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ إِنَّا لاَ نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلاَ صُورَةٌ فَأَصْبَحَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلاَبِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَأْمُرُ بِقَتْلِ كَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ وَيَتْرُكُ كَلْبَ الْحَائِطِ الْكَبِيرِ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abdullah ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) narrates: Umm al-Mu'minin Hadrat Maymunah (may Allah be well pleased with her) informed me that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Jibril (upon him be peace) had promised to meet me tonight, but he did not come. Then it occurred to him that there was a puppy beneath our bed. He gave the order and it was removed. He then took water in his hand and sprinkled it on that spot. When Jibril (upon him be peace) met him, he said: We do not enter a house in which there is a dog or a picture. The next morning the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) ordered dogs to be killed. He even ordered the killing of dogs that guarded small gardens, while sparing the dogs that guarded large gardens.
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت اُمّ المؤمنین میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جبرائیل علیہ السلام نے مجھ سے آج رات ملنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ مجھ سے نہیں ملے۔ پھر آپ کو خیال آیا کہ ہماری چارپائی کے نیچے کتّے کا پلّا ہے۔ آپ نے حکم دیا تو اسے باہر نکالا گیا، پھر آپ نے ہاتھ میں پانی لے کر اُس جگہ چھڑکاؤ فرمایا۔ جب جبرائیل علیہ السلام آپ سے ملے تو فرمایا: ہم اُس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتّا یا تصویر ہو۔ صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کتّوں کو مارنے کا حکم فرمایا، یہاں تک کہ آپ چھوٹے باغوں کے کتّوں کو بھی مارنے کا حکم فرما رہے تھے اور بڑے باغوں کے کتّوں کو چھوڑ رہے تھے۔
