عربی (اصل)
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ حَيْثُ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ فِي مَنْزِلِ أَبِي طَلْحَةَ وَمَا شَرَابُنَا يَوْمَئِذٍ إِلاَّ الْفَضِيخُ فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ وَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْنَا هَذَا مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Anas ibn Malik (may Allah be well pleased with him) narrates: I was serving wine to the people in the house of Hadrat Abu Hadrat Talhah (may Allah be well pleased with him) when wine was prohibited, and our wine at that time was the nabidh of unripe dates. When the announcer called out, Hadrat Abu Hadrat Talhah (may Allah be well pleased with him) said: Go out and see what this announcement is about. So I went out and the announcer was proclaiming: Beware! Wine has been made forbidden. Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) said: Wine flowed in the streets of Madinah. Hadrat Abu Hadrat Talhah (may Allah be well pleased with him) said: Go out and pour it away. So I poured it away.
اردو ترجمہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: جس وقت شراب حرام کی گئی میں حضرت ابو حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں لوگوں کو شراب پلا رہا تھا، اور اس وقت ہماری شراب کچی کھجوروں کی نبیذ تھی۔ جب منادی نے پکارا تو حضرت ابو حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: باہر جا کر دیکھو یہ آواز کیسی ہے؟ چنانچہ میں باہر نکلا تو ( ایک منادی ) پکار رہا تھا: خبردار! شراب حرام کر دی گئی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: شراب مدینہ کی گلیوں میں بہہ رہی تھی۔ حضرت ابو حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: باہر جاؤ اور اسے بہا دو، تو میں نے اسے بہا دیا۔
