عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَوْصِلِيُّ أَبُو عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي حَاجَةٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَضَى ابْنُ عُمَرَ حَاجَتَهُ فَكَانَ مِنْ حَدِيثِهِ يَوْمَئِذٍ أَنْ قَالَ مَرَّ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سِكَّةٍ مِنَ السِّكَكِ وَقَدْ خَرَجَ مِنْ غَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى إِذَا كَادَ الرَّجُلُ أَنْ يَتَوَارَى فِي السِّكَّةِ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ عَلَى الْحَائِطِ وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ ثُمَّ ضَرَبَ ضَرْبَةً أُخْرَى فَمَسَحَ ذِرَاعَيْهِ ثُمَّ رَدَّ عَلَى الرَّجُلِ السَّلاَمَ وَقَالَ " إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ السَّلاَمَ إِلاَّ أَنِّي لَمْ أَكُنْ عَلَى طُهْرٍ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ حَدِيثًا مُنْكَرًا فِي التَّيَمُّمِ . قَالَ ابْنُ دَاسَةَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ لَمْ يُتَابَعْ مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ عَلَى ضَرْبَتَيْنِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَرَوَوْهُ فِعْلَ ابْنِ عُمَرَ .
انگریزی ترجمہ
Nafi' narrates: 'I went with Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) to visit Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) for a need. Hadrat Ibn Umar completed his business. Among his conversation that day was: A man passed by the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) in an alley while he (blessings and peace of Allah be upon him) had just come from relieving himself. The man offered the greeting of peace, but he (blessings and peace of Allah be upon him) did not respond. When the man was about to disappear into the alley, he (blessings and peace of Allah be upon him) struck the wall with his hands and wiped his face, then struck again and wiped his forearms, then returned the man's greeting. He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Nothing prevented me from returning your greeting except that I was not in a state of purity."' Abu Dawud states: I heard Ahmad ibn Hanbal say: Muhammad ibn Thabit narrated a rejected (munkar) tradition regarding tayammum. (Ibn Dasah says:) Abu Dawud stated: Muhammad ibn Thabit was not corroborated in this account of two strikes attributed to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) — others narrated it as the personal action of Hadrat Ibn Umar (not the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)).
اردو ترجمہ
نافع بیان کرتے ہیں: میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ساتھ کسی ضرورت سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس گیا۔ حضرت ابن عمر نے اپنی ضرورت پوری کی۔ اس دن ان کی گفتگو میں سے یہ تھا: ایک شخص ایک گلی میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا — آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم قضائے حاجت سے فارغ ہو کر آ رہے تھے — اس نے سلام عرض کیا مگر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جواب نہیں دیا۔ جب وہ شخص گلی میں اوجھل ہونے کو تھا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دیوار پر مارے اور ان سے اپنے چہرے پر مسح فرمایا، پھر دوبارہ مارا اور اپنے بازوؤں پر مسح فرمایا، پھر اس شخص کو سلام کا جواب دیا۔ اور ارشاد فرمایا: مجھے تمہارے سلام کا جواب دینے سے بس اتنی بات نے روکا کہ میں باوضو نہیں تھا۔ حضرت ابوداؤد فرماتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو فرماتے سنا: محمد بن ثابت نے تیمم میں ایک منکر حدیث روایت کی ہے۔ (ابن داسہ کہتے ہیں:) حضرت ابوداؤد نے فرمایا: محمد بن ثابت نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے دو مرتبہ مارنے والے اس واقعے میں کسی کی متابعت نہیں پائی — دوسروں نے اسے حضرت ابن عمر کا اپنا فعل روایت کیا ہے (نہ کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا)۔
