عربی (اصل)
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ صُبَيْحٍ، حَدَّثَنِي عَمَّارٌ، مَوْلَى الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ أَنَّهُ شَهِدَ جَنَازَةَ أُمِّ كُلْثُومٍ وَابْنِهَا فَجُعِلَ الْغُلاَمُ مِمَّا يَلِي الإِمَامَ فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ وَفِي الْقَوْمِ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ وَأَبُو قَتَادَةَ وَأَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالُوا هَذِهِ السُّنَّةُ .
انگریزی ترجمہ
Ammar, the freed slave of al-Harith ibn Nawfal, narrated that he attended the funeral of Umm Kulthum and her son. The boy was placed closer to the imam. I objected to this. Among the people present were Hadrat Ibn Abbas, Hadrat Abu Sa'id al-Khudri, Hadrat Abu Qatadah, and Hadrat Abu Hurairah (may Allah be well pleased with them all). They said: This is the Sunnah (established practice of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), blessings and peace of Allah be upon him).
اردو ترجمہ
حارث بن نوفل کے آزاد کردہ غلام عمّار سے روایت ہے کہ وہ اُمّ کلثوم اور ان کے بیٹے کے جنازے میں حاضر ہوئے۔ لڑکے کو امام کی طرف (آگے) رکھا گیا، تو میں نے اسے ناپسند کیا۔ اس وقت لوگوں میں حضرت ابن عباس، حضرت ابو سعید خدری، حضرت ابو قتادہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم موجود تھے۔ ان سب نے فرمایا: یہی سنت ہے۔
