عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي، ثَابِتُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ حِمَى الأَرَاكِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ حِمَى فِي الأَرَاكِ " . فَقَالَ أَرَاكَةً فِي حِظَارِي . فَقَالَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ " لاَ حِمَى فِي الأَرَاكِ " . قَالَ فَرَجٌ يَعْنِي بِحِظَارِي الأَرْضَ الَّتِي فِيهَا الزَّرْعُ الْمُحَاطُ عَلَيْهَا .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abyad bin Hammal (may Allah be well pleased with him) narrates that he asked the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) about reserving arak (toothbrush) trees. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'There is no exclusive reservation for arak' (i.e., no one can reserve them for himself). He submitted: (Even) the arak that is in my enclosure (cultivated land)? The Noble the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'There is no reservation for arak.' Faraj said: By 'enclosure' is meant the land where there is cultivation and which is fenced.
اردو ترجمہ
حضرت ابیض بن حمال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اراک (پیلو) کے درختوں کی حفاظت کے بارے میں پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اراک کی حفاظت (کسی کے لیے) نہیں ہے (یعنی کوئی اسے اپنے لیے مخصوص نہیں کر سکتا)۔ انہوں نے عرض کیا: (یعنی) وہ اراک جو میری باڑ (زراعت والی زمین) میں ہے؟ نبی کریم علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: اراک کی حفاظت نہیں ہے۔ فرج نے کہا: حظار سے مراد وہ زمین ہے جس میں زراعت ہو اور اس پر باڑ لگی ہو۔
