عربی (اصل)
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - الْمَعْنَى - قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ جُمِعَ السَّبْىُ - يَعْنِي بِخَيْبَرَ - فَجَاءَ دِحْيَةُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِنِي جَارِيَةً مِنَ السَّبْىِ . قَالَ " اذْهَبْ فَخُذْ جَارِيَةً " . فَأَخَذَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَعْطَيْتَ دِحْيَةَ - قَالَ يَعْقُوبُ - صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ سَيِّدَةَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ - ثُمَّ اتَّفَقَا - مَا تَصْلُحُ إِلاَّ لَكَ . قَالَ " ادْعُوهُ بِهَا " . فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ " خُذْ جَارِيَةً مِنَ السَّبْىِ غَيْرَهَا " . وَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) narrates: The captives were gathered at Khaybar, and Dihyah came and submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), give me a maiden from the captives. He (blessings and peace of Allah be upon him) said: 'Go and take a maiden.' So he took Hadrat Safiyyah bint Huyayy. Then a man came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and submitted: O the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) of Allah, you have given Dihyah Hadrat Safiyyah bint Huyayy, the chief lady of Banu Qurayzah and Banu al-Nadir — she is only fitting for you. He (blessings and peace of Allah be upon him) said: 'Bring him and Hadrat Safiyyah.' When they were brought and the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) saw Hadrat Safiyyah, he said to Dihyah: 'Take another maiden from the captives.'
اردو ترجمہ
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: خیبر میں قیدی جمع کیے گئے تو دحیہ آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے قیدیوں میں سے ایک لونڈی دے دیجیے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جاؤ اور ایک لونڈی لے لو۔ تو انہوں نے صفیہ بنت حُیَی کو لے لیا۔ پھر ایک شخص نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یا نبی اللہ! آپ نے دحیہ کو صفیہ بنت حُیَی دے دی جو بنو قریظہ اور بنو نضیر کی سردار ہیں — وہ تو صرف آپ ہی کے لائق ہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انہیں اور صفیہ کو بلاؤ۔ پس دونوں لائے گئے اور آپ نے صفیہ کو دیکھا تو دحیہ سے فرمایا: قیدیوں میں سے کوئی اور لونڈی لے لو۔
