عربی (اصل)
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي إِدْرِيسُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ { وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ } قَالَ كَانَ الْمُهَاجِرُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ تُوَرِّثُ الأَنْصَارَ دُونَ ذَوِي رَحِمِهِ لِلأُخُوَّةِ الَّتِي آخَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُمْ فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ { وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ } قَالَ نَسَخَتْهَا { وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ } مِنَ النُّصْرَةِ وَالنَّصِيحَةِ وَالرِّفَادَةِ وَيُوصِي لَهُ وَقَدْ ذَهَبَ الْمِيرَاثُ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abdullah ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) explained the verse: 'To those also, to whom your right hand was pledged, give their due portion' -- When the Emigrants came to Madinah, they would inherit from the Helpers (Ansar) rather than from their own blood relatives, on account of the brotherhood that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) had established between them. When the verse was revealed: 'For everyone We have appointed heirs to what is left' (Surah al-Nisa: 33), it abrogated the verse: 'To those also, to whom your right hand was pledged, give their due portion.' What remains of this verse is the obligation of mutual aid, good counsel, and financial support, and one may bequeath up to (a third) in their favour, but the right of inheritance has been abolished.
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ (آیت مبارکہ) «والذين عقدت أيمانكم فآتوهم نصيبهم» کا قصہ یہ ہے کہ جب مہاجرین مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تو اس مواخات (بھائی چارے) کی بنا پر جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے درمیان قائم فرمائی تھی، مہاجرین انصار کے وارث ہوتے تھے اور ذوی الارحام (خونی رشتہ دار) وارث نہ ہوتے تھے۔ لیکن جب یہ آیت نازل ہوئی: «ولكل جعلنا موالي مما ترك» یعنی ہم نے ہر ایک کے لیے ترکے میں سے وارث مقرر کر دیے ہیں (سورۃ النساء: ۳۳)، تو اس نے پہلی آیت «والذين عقدت أيمانكم فآتوهم نصيبهم» کو منسوخ کر دیا۔ اب اس آیت کا مطلب نصرت (مدد)، نصیحت (خیر خواہی) اور رفادت (مالی اعانت) کے طور پر رہ گیا، اور ان کے حق میں (ایک تہائی مال تک) وصیت کی جا سکتی ہے، لیکن میراث ختم ہو گئی۔
