عربی (اصل)
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ انْطَلَقَ حَاطِبٌ فَكَتَبَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ أَنَّ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم قَدْ سَارَ إِلَيْكُمْ وَقَالَ فِيهِ قَالَتْ مَا مَعِي كِتَابٌ . فَانْتَحَيْنَاهَا فَمَا وَجَدْنَا مَعَهَا كِتَابًا فَقَالَ عَلِيٌّ وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ لأَقْتُلَنَّكِ أَوْ لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ . وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Ali (may Allah ennoble his countenance) narrated the same incident, saying: Hatib wrote to the people of Makkah that Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) has marched toward you. In this narration it states that the woman said: I have no letter. We searched her but found no letter. Then Hadrat Ali (may Allah ennoble his countenance) said: By Him by Whom oaths are sworn, I will surely kill you or you will certainly produce the letter. And he narrated the rest of the hadith.
اردو ترجمہ
حضرت علی کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے اسی واقعے کی روایت ہے، فرمایا: حاطب نے اہلِ مکہ کو خط لکھا کہ محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تمہاری طرف چلے ہیں۔ اور اس میں ہے کہ عورت نے کہا: میرے پاس کوئی خط نہیں۔ ہم نے اس کی تلاشی لی مگر کوئی خط نہ ملا۔ تو حضرت علی کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کی قسم کھائی جاتی ہے! میں تمہیں ضرور قتل کر دوں گا یا تم خط ضرور نکالو گی۔ اور آگے پوری حدیث بیان فرمائی۔
