عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ الْقُرَشِيِّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، - يَعْنِي الْعَنْقَزِيَّ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُدَيْلٍ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ قَالَ فَبَيْنَمَا هُوَ مُعْتَكِفٌ إِذْ كَبَّرَ النَّاسُ فَقَالَ مَا هَذَا يَا عَبْدَ اللَّهِ قَالَ سَبْىُ هَوَازِنَ أَعْتَقَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَتِلْكَ الْجَارِيَةُ . فَأَرْسَلَهَا مَعَهُمْ .
انگریزی ترجمہ
A similar narration is reported from Hadrat Abdullah ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) with the same chain. It states: While Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) was in i'tikaf, the people raised voices of Takbir (Allahu Akbar). He asked: What is this, O Hadrat Abdullah? Hadrat Abdullah (ibn Umar) (may Allah be well pleased with them both) submitted: These are the captives of Hawazin whom the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) has set free. Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) said: And that slave-girl too (i.e., the one I have should also be freed). So he sent her with them.
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔ اس میں ہے: جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ معتکف تھے تو لوگوں نے تکبیر کہی۔ انہوں نے پوچھا: یہ کیا ہے، اے عبداللہ؟ حضرت عبداللہ (بن عمر) رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے عرض کیا: یہ ہوازن کے قیدی ہیں جنہیں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے آزاد فرما دیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اور وہ لونڈی بھی (جو میرے پاس تھی آزاد ہے)۔ تو انہوں نے اسے ان (آزاد شدہ قیدیوں) کے ساتھ بھیج دیا۔
