عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُعْتِقَ رَقَبَةً أَوْ يَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ أَوْ يُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا . قَالَ لاَ أَجِدُ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اجْلِسْ " . فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ فَقَالَ " خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَحَدٌ أَحْوَجَ مِنِّي . فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ وَقَالَ لَهُ " كُلْهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَلَى لَفْظِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلاً أَفْطَرَ وَقَالَ فِيهِ " أَوْ تُعْتِقَ رَقَبَةً أَوْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ أَوْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا " .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Hurairah (may Allah be well pleased with him) narrated that a man broke his fast during Ramadan, so the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) commanded him to free a slave, or fast two consecutive months, or feed sixty poor persons. He submitted: I cannot afford any of these. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated to him: "Sit down." Then a basket of dates was brought to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). He stated: "Take this and give it in charity." The man submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! No one is more in need than I am. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) smiled until his blessed canine teeth became visible, and stated: "Eat it yourself." Abu Dawud (upon him be mercy) said: Ibn Jurayj narrated it from al-Zuhri with the wording of Malik, that a man broke his fast, and in it are the words: 'Free a slave, or fast two months, or feed sixty poor persons.'
اردو ترجمہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رمضان میں روزہ توڑ دیا تو رسولِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حکم فرمایا کہ ایک گردن (غلام) آزاد کرے، یا دو مہینے لگاتار روزے رکھے، یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ اس نے عرض کیا: میں (ان میں سے کچھ بھی) نہیں پاتا۔ رسولِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے ارشاد فرمایا: "بیٹھ جاؤ۔" پھر رسولِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اسے لے لو اور صدقہ کر دو۔" اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھ سے زیادہ محتاج کوئی نہیں ہے۔ رسولِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اتنا ہنسے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی انیاب (کچلی کے دانتِ مبارک) نظر آ گئیں، اور ارشاد فرمایا: "اسے (خود) کھا لو۔" حضرت ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ابنِ جریج نے اسے زہری سے مالک کے الفاظ پر روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے روزہ توڑ دیا، اور اس میں یہ الفاظ ہیں: "ایک گردن آزاد کرو، یا دو مہینے روزے رکھو، یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔"
