عربی (اصل)
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ، عَنْ خُوَيْلَةَ بِنْتِ مَالِكِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، قَالَتْ ظَاهَرَ مِنِّي زَوْجِي أَوْسُ بْنُ الصَّامِتِ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَشْكُو إِلَيْهِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُجَادِلُنِي فِيهِ وَيَقُولُ " اتَّقِي اللَّهَ فَإِنَّهُ ابْنُ عَمِّكِ " . فَمَا بَرِحْتُ حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ { قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا } إِلَى الْفَرْضِ فَقَالَ " يُعْتِقُ رَقَبَةً " . قَالَتْ لاَ يَجِدُ قَالَ " فَيَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " . قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ شَيْخٌ كَبِيرٌ مَا بِهِ مِنْ صِيَامٍ . قَالَ " فَلْيُطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " . قَالَتْ مَا عِنْدَهُ مِنْ شَىْءٍ يَتَصَدَّقُ بِهِ قَالَتْ فَأُتِيَ سَاعَتَئِذٍ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنِّي أُعِينُهُ بِعَرَقٍ آخَرَ . قَالَ " قَدْ أَحْسَنْتِ اذْهَبِي فَأَطْعِمِي بِهَا عَنْهُ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَارْجِعِي إِلَى ابْنِ عَمِّكِ " . قَالَ وَالْعَرَقُ سِتُّونَ صَاعًا قَالَ أَبُو دَاوُدَ فِي هَذَا إِنَّهَا كَفَّرَتْ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْتَأْمِرَهُ . وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا أَخُو عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Khuwaylah bint Malik ibn Tha'labah (may Allah be well pleased with her) said: My husband Aws ibn al-Samit (may Allah be well pleased with him) performed zihar against me. I came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) to complain to him. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was discussing the matter with me and saying: "Fear Allah, for he is your cousin." I did not leave until the Quran was revealed: 'Indeed Allah has heard the statement of the woman who pleads with you concerning her husband' — up to the obligations. He stated: "Let him free a slave." She submitted: He does not have one. He stated: "Then let him fast two consecutive months." She submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), he is an old man who has no strength for fasting. He stated: "Then let him feed sixty poor persons." She submitted: He has nothing to give in charity. She said: At that very moment a basket of dates was brought. I submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), I will also help him with another basket. He stated: "You have done well. Go and feed sixty poor persons on his behalf, and return to your cousin." The narrator said: The 'araq (basket) holds sixty sa'. Abu Dawud (upon him be mercy) said: In this (hadith) is (the point) that she expiated on his behalf without seeking his permission. Abu Dawud (upon him be mercy) said: This (Aws) is the brother of Hadrat Ubadah ibn al-Samit (may Allah be well pleased with him).
اردو ترجمہ
حضرت خویلہ بنت مالک بن ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: میرے شوہر اوس بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے ظہار کیا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے (اس معاملے میں) مجادلہ (بحث) فرما رہے تھے اور ارشاد فرما رہے تھے: اللہ سے ڈرو، وہ تمہارے چچا زاد ہیں۔ میں وہاں سے نہ ہٹی یہاں تک کہ قرآن نازل ہوا: ﴿قَدۡ سَمِعَ اللّٰهُ قَوۡلَ الَّتِیۡ تُجَادِلُکَ فِیۡ زَوۡجِهَا﴾ (بے شک اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے شوہر کے بارے میں تجھ سے جھگڑ رہی ہے) فرائض تک۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ ایک غلام آزاد کرے۔ حضرت خویلہ نے عرض کیا: اس کے پاس (غلام) نہیں ہے۔ ارشاد فرمایا: تو دو مہینے لگاتار روزے رکھے۔ عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ بوڑھے ہیں، ان میں روزے رکھنے کی طاقت نہیں ہے۔ ارشاد فرمایا: تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ عرض کیا: ان کے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ فرماتی ہیں: اسی وقت کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں بھی ایک اور ٹوکرے سے ان کی مدد کروں گی۔ ارشاد فرمایا: تم نے اچھا کیا۔ جاؤ اور ان کی طرف سے ساٹھ مسکینوں کو کھلاؤ اور اپنے چچا زاد کے پاس لوٹ جاؤ۔ راوی فرماتے ہیں: عرق (ٹوکرا) ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔ حضرت ابوداؤد فرماتے ہیں: اس میں یہ (بات) ہے کہ اس عورت نے شوہر سے اجازت لیے بغیر اس کی طرف سے کفارہ ادا کیا۔ حضرت ابوداؤد فرماتے ہیں: یہ (اوس) حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھائی ہیں۔
