عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ بِلاَ إِخْبَارٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بَقِيَتْ لَكَ وَاحِدَةٌ قَضَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ لِمَعْمَرٍ مَنْ أَبُو الْحَسَنِ هَذَا لَقَدْ تَحَمَّلَ صَخْرَةً عَظِيمَةً . قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَبُو الْحَسَنِ هَذَا رَوَى عَنْهُ الزُّهْرِيُّ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَكَانَ مِنَ الْفُقَهَاءِ رَوَى الزُّهْرِيُّ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ أَحَادِيثَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَبُو الْحَسَنِ مَعْرُوفٌ وَلَيْسَ الْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ .
انگریزی ترجمہ
This hadith is narrated with the same chain and meaning, except that it does not mention the informing. Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) said: You still have one (divorce) remaining. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) ruled accordingly. Abu Dawud (upon him be mercy) said: I heard Ahmad ibn Hanbal say that Abd al-Razzaq said that Ibn al-Mubarak said to Ma'mar: Who is this Abu al-Hasan? He has indeed shouldered a tremendous rock. Abu Dawud (upon him be mercy) said: This Abu al-Hasan is the one from whom al-Zuhri narrated. Al-Zuhri said: He was among the jurists. Al-Zuhri narrated several hadiths from Abu al-Hasan. Abu Dawud (upon him be mercy) said: Abu al-Hasan is well-known, but this hadith is not acted upon.
اردو ترجمہ
اسی سند و مفہوم کے ساتھ روایت ہے، مگر اس میں خبر دینے کا ذکر نہیں ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: تمہاری ایک (طلاق) باقی رہ گئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسی کا فیصلہ فرمایا۔ حضرت ابوداؤد فرماتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل سے سنا، انہوں نے کہا کہ عبدالرزاق نے فرمایا کہ ابن المبارک نے معمر سے کہا: یہ ابوالحسن کون ہے؟ اس نے بہت بڑی چٹان اٹھائی ہے۔ حضرت ابوداؤد فرماتے ہیں: یہ ابوالحسن وہی ہیں جن سے زہری نے روایت کیا ہے۔ زہری نے کہا: وہ فقہاء میں سے تھے۔ زہری نے ابوالحسن سے کئی احادیث روایت کی ہیں۔ حضرت ابوداؤد فرماتے ہیں: ابوالحسن معروف ہیں لیکن اس حدیث پر عمل نہیں ہے۔
