عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَاجًّا فَكَانَ النَّاسُ يَأْتُونَهُ فَمَنْ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَعَيْتُ قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ أَوْ قَدَّمْتُ شَيْئًا أَوْ أَخَّرْتُ شَيْئًا . فَكَانَ يَقُولُ " لاَ حَرَجَ لاَ حَرَجَ إِلاَّ عَلَى رَجُلٍ اقْتَرَضَ عِرْضَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ وَهُوَ ظَالِمٌ فَذَلِكَ الَّذِي حَرِجَ وَهَلَكَ " .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Usamah ibn Sharik (may Allah be well pleased with him) narrates: I went out with the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) for Hajj. People would come to his blessed court; one would submit: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), I performed the Sa'i (between Safa and Marwah) before the circumambulation, or I did something before its proper time or after it. He would state: There is no harm, there is no harm! Harm befalls only the one who wrongfully attacks the honour of a Muslim. Such a person is the one who is truly in peril and ruined.
اردو ترجمہ
حضرت اُسامہ بن شریک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلا۔ لوگ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوتے تھے، کوئی عرض کرتا: یا رسول اللہ! میں نے طواف سے پہلے سعی کر لی، یا میں نے کسی چیز کو مقدم کر دیا یا مؤخر کر دیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے: کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں! حرج تو صرف اُس شخص پر ہے جس نے کسی مسلمان کی عزت و آبرو کو ظلماً پامال کیا، بس وہی ہے جو حرج میں پڑا اور ہلاک ہوا۔
