عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حِصْنٍ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، سَرَّاءُ بِنْتُ نَبْهَانَ - وَكَانَتْ رَبَّةَ بَيْتٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ - قَالَتْ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الرُّءُوسِ فَقَالَ " أَىُّ يَوْمٍ هَذَا " . قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ " أَلَيْسَ أَوْسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكَذَلِكَ قَالَ عَمُّ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ إِنَّهُ خَطَبَ أَوْسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Sarra bint Nabhan (may Allah be well pleased with her) -- who was mistress of a house (containing idols) in the pre-Islamic era -- narrates: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) addressed us on the Yawm al-Ru'us (the second of the Tashriq days, the 12th of Dhul Hijjah) and asked: What day is this? We replied: Allah and His Messenger know best. He (blessings and peace of Allah be upon him) graciously stated: Is this not the middle day of the Tashriq days? Abu Dawud (upon him be mercy) said: Likewise the uncle of Abu Hurrah al-Raqashi reported that he (blessings and peace of Allah be upon him) delivered a sermon on the middle day of the Tashriq days.
اردو ترجمہ
حضرت سراء بنت نبہان رضی اللہ تعالیٰ عنہا — جو جاہلیت میں ایک مکان کی مالکہ تھیں (جس میں بت رکھے جاتے تھے) — فرماتی ہیں: سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں یومِ الرُّؤُوس (ایام تشریق کا دوسرا دن، بارہویں ذی الحجہ) کو خطاب فرمایا اور دریافت فرمایا: یہ کون سا دن ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا یہ ایام تشریق کا بیچ والا دن نہیں ہے؟ حضرت ابوداؤد فرماتے ہیں: ابوحرہ رقاشی کے چچا سے بھی اسی طرح مروی ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایام تشریق کے بیچ والے دن خطبہ ارشاد فرمایا۔
