عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ فَتَلْتُ قَلاَئِدَ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدَىَّ ثُمَّ أَشْعَرَهَا وَقَلَّدَهَا ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى الْبَيْتِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَىْءٌ كَانَ لَهُ حِلاًّ .
انگریزی ترجمہ
Umm al-Mu'minin Hadrat A'ishah al-Siddiqah (may Allah be well pleased with her) said: I twisted the garlands of the sacrificial camels of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) with my own hands. Then he marked them and garlanded them, and sent them to the House (Ka'bah), while he himself remained in Madinah al-Munawwarah. Nothing that was previously permissible for him became prohibited.
اردو ترجمہ
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: میں نے اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے قربانی کے اونٹوں کے قلادے (ہار) بَٹے، پھر آپ نے ان پر اِشعار (نشان) فرمایا اور قلادے ڈالے، پھر انہیں بیت اللہ کی طرف بھیج دیا اور خود مدینہ منورہ میں مقیم رہے۔ تو آپ پر کوئی ایسی چیز حرام نہ ہوئی جو پہلے حلال تھی۔
