عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ رَجُلاً عَلَى الصَّدَقَةِ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ فَقَالَ لأَبِي رَافِعٍ اصْحَبْنِي فَإِنَّكَ تُصِيبُ مِنْهَا . قَالَ حَتَّى آتِيَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَسْأَلَهُ فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ " مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَإِنَّا لاَ تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ " .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Rafi' (may Allah be well pleased with him) narrates that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) appointed a man of the Banu Makhzum to collect the sadaqah. He said to Hadrat Abu Rafi' (may Allah be well pleased with him): 'Accompany me, and you shall receive some of it.' He replied: 'Not until I go to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and ask him.' So he went to the blessed court and inquired, whereupon the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'The freed bondsman of a people is counted among them, and sadaqah is not lawful for us.'
اردو ترجمہ
حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بنو مخزوم کے ایک شخص کو صدقے کی وصولی پر مقرر فرمایا، اس نے حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا: میرے ساتھ چلو، تمہیں بھی اس میں سے کچھ مل جائے گا۔ انہوں نے عرض کیا: جب تک حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر دریافت نہ کر لوں (نہیں جاؤں گا)۔ چنانچہ وہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور دریافت کیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی قوم کا آزاد کردہ غلام انہیں میں سے ہوتا ہے، اور ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں۔
