عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ مَرْوَانَ الأَصْفَرِ، قَالَ رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ثُمَّ جَلَسَ يَبُولُ إِلَيْهَا فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَلَيْسَ قَدْ نُهِيَ عَنْ هَذَا قَالَ بَلَى إِنَّمَا نُهِيَ عَنْ ذَلِكَ فِي الْفَضَاءِ فَإِذَا كَانَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ شَىْءٌ يَسْتُرُكَ فَلاَ بَأْسَ .
انگریزی ترجمہ
Marwan al-Asfar narrates: I saw Hadrat Abdullah ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) make his camel kneel facing the Qiblah, then he sat down and began to urinate in that direction. I asked: 'O Abu Abdur-Rahman! Has this not been forbidden?' He replied: 'Indeed, but that prohibition applies only in open land. When there is something between you and the Qiblah that serves as a screen, then there is no harm.'
اردو ترجمہ
مروان اصفر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی سواری قبلہ رُخ بٹھائی، پھر اسی کی طرف رُخ کر کے پیشاب فرمانے لگے۔ میں نے عرض کیا: ابوعبدالرحمٰن! کیا اس سے منع نہیں کیا گیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! لیکن اس سے صرف کھلے میدان میں روکا گیا ہے۔ جب تمہارے اور قبلے کے درمیان کوئی ایسی چیز ہو جو تمہارے لیے آڑ بنے تو کوئی حرج نہیں۔
