Arabic (Original)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنِ ابْنِ أُمِّ هَانِئٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، قَالَتْ كُنْتُ قَاعِدَةً عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ نَاوَلَنِي فَشَرِبْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ إِنِّي أَذْنَبْتُ فَاسْتَغْفِرْ لِي . فَقَالَ " وَمَا ذَاكِ " . قَالَتْ كُنْتُ صَائِمَةً فَأَفْطَرْتُ . فَقَالَ " أَمِنْ قَضَاءٍ كُنْتِ تَقْضِينَهُ " . قَالَتْ لاَ . قَالَ " فَلاَ يَضُرُّكِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَعَائِشَةَ .
English Translation
Hadrat Umm Hani narrated:"I was sitting with the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) when some drink was brought, so he drank from it, then he offered it to me and I drank it. Then I said: 'I have indeed sinned, so seek forgiveness for me.' He said: 'What is that?' I said: 'I was fasting, then I broke the fast.' He said: 'Were you performing a fast that you had to make up?' I said: 'No.' He said: 'Then it is no harm for you
Urdu Translation
حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، اتنے میں آپ کے پاس پینے کی کوئی چیز لائی گئی، آپ نے اس میں سے پیا، پھر مجھے دیا تو میں نے بھی پیا۔ پھر میں نے عرض کیا: میں نے گناہ کا کام کر لیا ہے۔ آپ میرے لیے بخشش کی دعا کر دیجئیے۔ آپ نے پوچھا: ”کیا بات ہے؟“ میں نے کہا: میں روزے سے تھی اور میں نے روزہ توڑ دیا تو آپ نے پوچھا: ”کیا کوئی قضاء کا روزہ تھا جسے تم قضاء کر رہی تھی؟“ عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو اس سے تمہیں کوئی نقصان ہونے والا نہیں“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: اس باب میں حضرت ابو سعید خدری اور حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
