Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنِ الْوَلِيدِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي شَيْئًا فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْهِمْ وَأَنَا سَلِيمُ الصَّدْرِ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَالٍ فَقَسَمَهُ فَانْتَهَيْتُ إِلَى رَجُلَيْنِ جَالِسَيْنِ وَهُمَا يَقُولاَنِ وَاللَّهِ مَا أَرَادَ مُحَمَّدٌ بِقِسْمَتِهِ الَّتِي قَسَمَهَا وَجْهَ اللَّهِ وَلاَ الدَّارَ الآخِرَةَ . فَتَثَبَّتُّ حِينَ سَمِعْتُهُمَا فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَخْبَرْتُهُ فَاحْمَرَّ وَجْهُهُ وَقَالَ " دَعْنِي عَنْكَ فَقَدْ أُوذِيَ مُوسَى بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ زِيدَ فِي هَذَا الإِسْنَادِ رَجُلٌ .
English Translation
It is narrated by Hadrat ' Abdullah bin Mas'ud that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "No one should convey to me anything regarding any of my Companions, for I love that I should go out to them while my breast is at peace." Hadrat 'Abdullah said: "The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was brought some wealth, so the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) distributed it. Then I came across two men that were sitting saying: 'By Allah! Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) did not intend the Face of Allah in his distribution, nor the abode of the Hereafter.' So I spread this when I heard them, and I went to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and I informed him. So his face became red and he said: 'Do not bother me with this, for indeed Musa (upon him be peace) was afflicted by more than this and he was patient
Urdu Translation
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے اصحاب میں سے کوئی کسی کی برائی مجھ تک نہ پہنچائے، کیونکہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ جب میں ان کی طرف نکلوں تو میرا سینہ صاف ہو“، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ( ایک بار ) رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ مال آیا اور آپ نے اسے تقسیم کر دیا، تو میں دو آدمیوں کے پاس پہنچا جو بیٹھے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے: قسم اللہ کی! محمد نے اپنی اس تقسیم سے جو انہوں نے کی ہے نہ رضائے الٰہی طلب کی ہے نہ دار آخرت، جب میں نے اسے سنا تو یہ بات مجھے بری لگی، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی تو آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے فرمایا: ”مجھے جانے دو کیونکہ موسیٰ کو تو اس سے بھی زیادہ ستایا گیا پھر بھی انہوں نے صبر کیا“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے اور اس سند میں ایک آدمی کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
