Arabic (Original)
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ فَرَضَ لأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فِي ثَلاَثَةِ آلاَفٍ وَخَمْسِمِائَةٍ وَفَرَضَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي ثَلاَثَةِ آلاَفٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لأَبِيهِ لِمَ فَضَّلْتَ أُسَامَةَ عَلَىَّ فَوَاللَّهِ مَا سَبَقَنِي إِلَى مَشْهَدٍ . قَالَ لأَنَّ زَيْدًا كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَبِيكَ وَكَانَ أُسَامَةُ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ مِنْكَ فَآثَرْتُ حُبَّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى حُبِّي . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
English Translation
It is narrated by Hadrat Zaid bin Aslam that from his father, from 'Umar, that he ('Umar) granted a stipend of three-thousand and five-hundred to Hadrat Usamah bin Zaid, and he granted three-thousand to 'Abdullah bin 'Umar. So 'Abdullah bin 'Umar said to his father: "Why have you given preference to Hadrat Usamah over me? For by Allah, he has not preceded me to any battle." He said: "Because Hadrat Zaid used to be more beloved to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) than your father, and Hadrat Usamah was more beloved to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) than you. So I gave preference to the beloved of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) over my beloved
Urdu Translation
اسلم عدوی مولیٰ عمر سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے لیے بیت المال سے ساڑھے تین ہزار کا، وظیفہ مقرر کیا، اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے لیے تین ہزار کا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اپنے باپ سے عرض کیا: آپ نے اسامہ کو مجھ پر ترجیح دی؟ اللہ کی قسم! وہ مجھ سے کسی غزوہ میں آگے نہیں رہے، تو انہوں نے کہا: اس لیے کہ زید رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو تمہارے باپ سے اور اسامہ تم سے زیادہ محبوب تھے، اس لیے میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے محبوب کو اپنے محبوب پر ترجیح دی۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
